لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 528
528 تقریر کے اختتام پر صاحب صدر نے اپنے صدارتی ریمارکس میں حضور کی اس تقریر کی بے حد تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی یورپین اس حالت کو دیکھتا تو حیران رہ جاتا کہ ہندوستان نے اس قدر ترقی کرلی ہے ۹۳ حضور کی یہ تقریر اسلام کا اقتصادی نظام کے نام سے چھپ چکی ہے۔احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے حضور کے اعزاز میں دعوت چائے ۲ مارچ ۱۹۴۴ء کو ۵ بجے شام احمد یہ ہوٹل میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے حضور کو چائے کی دعوت دی گئی جس میں غیر احمدی طلباء کے علاوہ مختلف کالجوں کے متعدد غیر احمدی پر و فیسر صاحبان بھی شریک ہوئے۔تین گھنٹہ تک حضور مسلمانوں کی اقتصادی پستی کی وجوہ اور ان کا حل سیاسیات حاضرہ ملکانوں کا ارتداد اور جماعت احمدیہ کی مساعی وغیرہ امور پر گفتگو فرماتے رہے۔آخر پونے آٹھ بجے شام جناب شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کے مکان پر تشریف لے گئے ۹۴ محترم ملک امیر بخش صاحب صحابی کی وفات - ۲- جون ۱۹۳۵ء غالباً محترم ملک امیر بخش صاحب صحابی لاہور کا ذکر اصحاب مسیح موعود علیہ السلام کے حالات مندرجہ کتاب ہذا میں نہیں آسکا۔یہ صحابی ۲- جون ۱۹۳۵ء کو۸۲ سال کی عمر پا ک فوت ہوئے۔حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی نے جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں دفن کئے گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون - ۹۵ نہایت افسوس ناک حادثہ ۱۱ - نومبر ۱۹۴۵ء کو لاہور میں ایک نہایت ہی افسوس ناک حادثہ پیش آیا اور وہ یہ کہ خدام الاحمدیہ کے ٹرپ کے موقعہ پر حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب نیلہ گنبد والوں کے تین پوتے کشتی ڈگمگا جانے کی وجہ سے دریائے راوی میں ڈوب کر فوت ہو گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون