لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 516
516 آخر صدر نے بمشکل جلسہ برخواست کر کے احراریوں کو خود تجویز کردہ اور خود طلب کرده مسلمان نمائندگان کے چنگل سے رہائی دلائی۔اور بالفاظ ”زمیندار“ احرار لیڈ ر دامن جھاڑ کر اس طرح اٹھے جس طرح کوئی ملاح اپنی کشتی غرق کر دینے کے بعد ساحل پر آتا ہے اور وہاں سے نامرادانہ آہیں کھینچتا ہوا گھر کی راہ لیتا ہے۔کے یہ تو ان نمائندگان نے احراریوں کی گت بنائی۔جنہیں مجلس احرار کی لیڈروں نے اپنی تائید کے لئے لاہور کے باہر سے بلایا تھا۔اگر خدانخواستہ لاہور والوں کو بھی اطلاع ہو جاتی تو نا معلوم وہ اس جلسہ میں کیا کر گزرتے ؟ بہر حال مجلس احرار کو اپنے طلب کردہ جلسہ میں ہی غداری اور قوم فروشی کا بدلہ کسی قد ریل گیا۔اور بعد ازاں ان کے خلاف دن بدن نفرت بڑھتی گئی۔زمین ان کے پاؤں تلے سے نکل گئی اور وزارتوں پر قبضہ کر کے پنجاب پر حکومت کرنے اور جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دینے کا جو خواب احراری دیکھ چکے تھے وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور ایک لمبے عرصہ تک کے لئے ان کے وقار کی صف لپیٹ دی گئی۔نیشنل لیگیں اور یوم احتجاج حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے زمانہ امارت میں حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے لاہور میں متعدد بار تشریف لا کر مسلمانان ہند کی جو رہنمائی فرمائی تھی اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں جو عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا تھا وہ مجلس احرار کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔اس لئے انہوں نے ہر موقعہ پر یہ کوشش کی کہ مسلمان حضور کی رہنمائی سے محروم ہوجائیں اور قیادت کا اہم فرض مجلس احرار سرانجام دے مگر لوگوں کو مشتعل کر کے ناشائستہ حرکات کروانا اور چندہ وصول کر لینا تو آسان ہوتا ہے مصائب و آلام اور مشکل حالات میں رہنمائی کرنا بڑی قربانی اور حزم واحتیاط چاہتا ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مجلس احرار نے اس نازک موقعہ پر مسلمانوں کی رہنمائی سے نہ صرف اجتناب کیا بلکہ انہیں انگریز کی گولی سکھ کی کر پان“ اور ”ہندو کے سرمایہ سے دہشت زدہ کر کے خاموش کر دینے کی کوشش شروع کر دی۔۷۹ ان حالات کو دیکھ کر ہوشمند مسلمانوں نے پھر حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف رہنمائی حاصل