لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 515 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 515

515 سے تعمیر نہ کیا جائے وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مجلس احرار نے آئندہ الیکشن میں اپنے زیادہ سے زیادہ نمائندوں کو کامیاب کروا کر وزارتوں پر قبضہ کرنے کی ٹھان رکھی تھی اور اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے وہ غیر مسلموں کے ایک حصہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتی تھی۔لیکن جب سکھوں نے مسجد شہید کر دی تو مسلمان آپے سے باہر ہو گئے اور حالات نے نہایت نازک صورت اختیار کر لی۔مسلمانوں نے اپنی قومی غیرت کو برقرار رکھنے کی خاطر جو انہیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی ہوئی ہے ہزاروں کے تعداد میں مسجد شہید گنج کی طرف بڑھنا شروع کیا۔حکومت کو یہ ہنگامہ خیزی ناگوار گذری اور قیام امن کی پیش نظر متعدد بار مسلمانوں پر گولی چلائی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ان حالات میں مسلم قوم نے طبعاً اپنے ان لیڈروں کی طرف رجوع کیا جو ان سے آئندہ الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کی بھیک مانگ چکے تھے۔اس نازک موقعہ پر احراری لیڈروں کا فرض تھا کہ وہ آگے بڑھ کر مسلمانوں کی رہنمائی کرتے۔حکومت اور سکھ لیڈروں سے مل کر اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔لیکن جب پبلک آواز نے انہیں مجبور کر دیا تو انہوں نے اپنی جد و جہد کا آغاز کرنے کے لئے ۲۷ - ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء کی تاریخیں مقرر کر دیں۔چنانچہ ۲۸ جولائی کو انہوں نے موچی دروازہ کے باہر برکت علی محمد ن ہال میں ایک جلسہ منعقد کیا۔جس میں پنجاب و سرحد کے ایک سو کے قریب نمائندے شامل ہوئے۔لیکن ابھی جلسہ شروع نہیں ہوا تھا کہ چاروں طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی جس کے جواب میں کسی احراری لیڈر کو تو لب کشائی کی جرأت نہ ہوئی البتہ انہوں نے سیرت کمیٹی والے عبدالمجید صاحب قرشی کو اپنی طرف سے قربانی کا بکرا بنا کر پیش کر دیا۔قرشی صاحب پر جو بیتی اس کا کچھ حال بالفاظ ”زمیندار یوں ہے کہ " قرشی صاحب سٹیج پر کیا آئے حاضرین کے لئے پیغام اشتعال آ گیا۔۔۔۔۔سارے 9966 مند و بین یک زبان ہو کر بٹھا دو بٹھا دو کا ہنگامہ بلند کر رہے تھے۔نفرت و ہیجان میں ڈوبے ہوئے فقرے بزبان ہنگامہ اعلان کر رہے تھے کہ کوئی مسلمان اس کی صورت تک کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں۔غیظ و غضب یہاں تک بڑھ گیا کہ سٹیج کے قریب سے چند اشخاص اٹھ کر قرشی پر جھپٹ پڑے اور نہایت بے تکلفی کے ساتھ سٹیج سے پیچھے دھکیل دیا۔اس کھینچا تانی میں قرشی کا کرتا کچھ اس طرح پھٹ گیا کہ ایک گریبان کے نیچے درجنوں اس کے نائب نظر آنے لگے۔