لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 503 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 503

503 گا۔وہ صادق الوعد ہے اور رحمان و رحیم ہے۔،،اكو محترم قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کا زمانہ امارت محترم جناب قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے امرتسر کی قاضی فیملی کے درخشندہ گوہر ہیں۔آپ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور کے گورنمنٹ کالج کے لیکچرار مقرر ہوئے اور پھر اسی ادارہ سے پرنسپل کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔بعدہ کچھ عرصہ کراچی اور لاہور یونیورسٹیوں میں فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کا انچارج رہنے کے بعد اب تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل ہیں۔نہایت شریف النفس، نظام سلسلہ سے پوری طرح وابستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خلفاء کے لٹریچر اور تعلیم سے خوب واقف ہیں۔جب سے آپ اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس اپنے ملک میں آئے ہیں حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جلسہ سالانہ کا لیکچرار مقرر کیا اور اب تک غالبا بغیر کسی ناغہ کے برابر آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے۔آپ کا شمار پنجاب یورنیورسٹی کے چند ممتاز ماہرین تعلیم میں ہوتا ہے۔آپ کے سینکڑوں شاگر د حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں اور کبھی آپ کی بے حد عزت اور تکریم کرتے ہیں۔آپ موزوں قدوقامت کے ہنس مکھ انسان ہیں۔عام حالات میں آپ کا لباس ہمیشہ سادہ ہوتا ہے۔بول چال اور رفتار میں ایک وقار ہوتا ہے۔آپ کی تقریر سے علماء اور نو تعلیم یافتہ طبقہ کافی معلومات حاصل کر کے اٹھتا ہے۔آج کل آپ کو حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مجلس افتاء کی صدارت بھی سونپی ہوئی ہے۔جسے آپ نہایت ہی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔آپ قریباً چار سال تک جماعت لاہور کے امیر بھی رہے ہیں۔خاکسار کی درخواست پر آپ نے اپنے زمانہ امارت کے جو حالات قلمبند کئے۔درج ذیل ہیں : عرض ہے کہ میں ۱۹۳۱ء سے لیکر ۱۹۳۴ ء تک لاہور جماعت کا امیر تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جبکہ سابق امیر محترمی چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بار بار ہندوستان سے باہر جانے لگے تھے۔پہلے راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس میں پھر کسی اور تقریب پر۔بعد میں گورنر جنرل کی کونسل کے ممبر ہوکر دہلی چلے گئے۔میرا انتخاب حضور خلیفہ اسی رضی اللہ عنہ نے اپنی موجودگی میں احمد یہ ہوٹل ایمپرس روڈ میں جماعت کے جلسہ میں کروایا اور وہیں منظوری دی۔میرے ساتھ مختلف