لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 502
502 وو سالہا سال کی بات ہے۔میں نے خواب دیکھی تھی اور وہ اخبار میں کئی بار چھپ بھی چکی ہے۔میں نے دیکھا کہ میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور سامنے بڑا قالین ہے اور اس قالین پر عزیزم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب عزیزم چوہدری عبداللہ خاں صاحب اور عزیزم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب لیٹے ہوئے ہیں۔سران کے میری طرف ہیں اور پاؤں دوسری طرف ہیں اور سینہ کے بل لیٹے ہوئے ہیں اور میں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں میرے بیٹے ہیں۔عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ساری عمر دین کی خدمت میں لگائی ہے اور اس طرح میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا۔میری بیماری کے موقعہ پر تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کو میرا بیٹا ہونے کا ثبوت دیا۔بلکہ میرے لئے فرشتہ رحمت بنا دیا۔وہ میری محبت میں یورپ سے چل کر کراچی آئے اور میرے ساتھ چلنے اور میری صحت کا خیال رکھنے کے ارادہ سے آئے۔چنانچہ ان کی وجہ سے سفر بہت اچھی طرح کٹا اور بہت سی باتوں میں آرام رہا۔آخر کوئی انسان پندرہ بیس سال پہلے تین نوجوانوں کے متعلق اپنے پاس سے کس طرح ایسی خبر دے سکتا ہے۔دنیا کا کونسا ایسا مذ ہبی انسان ہے جس کے ساتھ محض مذہبی تعلق کی وجہ سے کسی شخص نے جو اتنی بڑی پوزیشن رکھتا ہو جو چو ہدری ظفر اللہ خاں صاحب رکھتے ہیں اس اخلاص کا ثبوت دیا ہو۔کیا یہ نشان نہیں ؟ مخالف مولوی اور پیر گالیاں تو مجھے دیتے ہیں مگر کیا وہ اس قسم کے نشان کی مثال بھی پیش کر سکتے ہیں۔کیا کسی مخالف اور پیر نے ۲۰ سال پہلے کسی نوجوان کے متعلق ایسی خبر دی اور بیس سال تک وہ خبر پوری ہوتی رہی۔اور کیا کسی ایسے مولوی اور پیر کی خدمت کا موقعہ خدا تعالیٰ نے کسی ایسے شخص کو دیا جو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی پوزیشن رکھتا تھا۔” خدا تعالیٰ ان کی خدمت کو بغیر معاوضہ کے نہیں چھوڑے گا اور ان کی محبت کو قبول کرے گا اور اس دنیا اور اگلی دنیا میں اس کا ایسا معاوضہ دے گا کہ پچھلے ہزار سال کے بڑے آدمی اس پر رشک کریں گے۔کیونکہ وہ خدا شکور ہے اور کسی کا احسان نہیں اٹھاتا۔اس نے ایک عاجز بندہ کی محبت کا اظہار کیا اور اس کا بوجھ خود اٹھانے کا وعدہ کیا۔اب یقیناً جو اس کی خدمت کرے گا خدا تعالیٰ اس کی خدمت کو قبول کرے گا اور دین و دنیا میں اس کو ترقی دے