لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 493
493 میں شمولیت کے لئے شملہ تشریف لے گئے تو واپسی سے قبل حضور کو گورنر پنجاب کے چیف سیکرٹری کی چٹھی ملی جس میں لکھا تھا کہ گورنر پنجاب کی خواہش ہے کہ آپ واپس جانے سے قبل گورنر صاحب سے ضرور ملتے جائیں۔چنانچہ جب حضور تشریف لے گئے تو گورنر صاحب نے چھوٹتے ہی کہا کہ کیا یہ سچ ہے کہ آپ کی جماعت نے ہندوؤں کے بائیکاٹ کی تحریک شروع کر رکھی ہے؟ حضور نے فرمایا۔یہ رپورٹ آپ کو غلط ملی ہے۔نہ ہم نے بائیکاٹ کے لئے کہا اور نہ ہماری جماعت نے بائیکاٹ کی تحریک کی۔ہم نے جو کہا وہ صرف یہ ہے کہ ہند و جو چیزیں مسلمانوں سے نہیں خریدتے وہ مسلمان بھی ہندوؤں کی بجائے مسلمانوں سے خریدیں اور مسلمان اپنی دوکانیں کھولیں تا کہ تجارت کا کام بالکل ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے۔اب بتائیے کیا ہماری اس تحریک میں کوئی حصہ بائیکاٹ کا ہے۔اس پر گورنر صاحب نے تسلیم کیا کہ یہ تو کوئی بائیکاٹ نہیں۔۵۶ بابو عبد الحمید ریلوے آڈیٹر کے نام حضور کا خط اس سلسلہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے محترم بابوعبدالحمید صاحب ریلوے آڈیٹر کے نام آخر ۱۹۲۷ء میں ایک خط لکھا تھا جس سے اس مضمون پر مزید روشنی پڑتی ہے۔خط یہ ہے: مکرمی با بوعبد الحمید صاحب السلام علیکم گورنر صاحب سے چھوت چھات پر گفتگو ہوئی تھی۔معلوم ہوا کہ ہندوؤں کی طرف سے جو تحریکات اس کے متعلق ہو رہی ہیں وہ ان سے ناواقف ہیں۔آپ جلد سے جلد کوشش کر کے ہندو اخبارات میں جہاں جہاں مسلمانوں کے بائیکاٹ کے متعلق جو تحریرات نکل چکی ہیں ان کے کٹنگ مع اخبار کے نام اور تاریخ کے ارسال کریں تا کہ ان کے پاس پیش کیا جا سکے۔“ والسلام خاکسار مرزا محمود ۵۷ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ ہند و مسلمانوں کا معاندانہ رنگ میں بائیکاٹ کر رہے تھے گویا وہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ کرلیں گے تو مسلمان اپنی الگ دکانیں ہرگز نہیں کھول سکیں گے