لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 47
47 نبی“ اور ”زندہ نبی کے مضامین پر لیکچر دینے کا اعلان کیا اور بڑی جرات کے ساتھ مسلمانوں کو مقابلہ کا چیلنج دیا۔چنانچہ ان کا پہلا لیکچر ۱۸مئی ۱۹۰۰ء کو فورمین چیپل لا ہور انارکلی لاہور میں’ نبی معصوم“ کے موضوع پر ہوا۔اس لیکچر میں انہوں نے ضعیف روایات اور تفاسیر کی بناء پر حضرت مسیح علیہ السلام کے سوا سارے انبیاء کو گنہ گار ثابت کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو مقابلہ پر آئے۔حضرات علماء جو جلسہ میں موجود تھے لاحول ولاقوہ پڑھتے ہوئے جلسہ سے چل دیئے۔اتفاقاً اس جلسہ میں احمدیت کے شیدائی حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی موجود تھے۔ان کی غیرت بھلا کب برداشت کر سکتی تھی کہ بشپ صاحب مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج دے کر فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے جلسہ گاہ سے نکل جائیں۔آپ فوراً کھڑے ہوئے اور بآواز بلند کہا کہ پادری صاحب ! آپ نے جو دلائل مسیح کی عصمت ثابت کرنے کیلئے انا جیل سے دیئے ہیں وہ کسی محقق کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتے کیونکہ انا جیل تو حضرت مسیح علیہ السلام کے ارادتمندوں کی تصانیف ہیں اور ارادتمند ہمیشہ تعریف کیا ہی کرتے ہیں۔البتہ اگر انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا اپنا کوئی قول حضرت مسیح علیہ السلام کی معصومیت کے ثبوت میں پیش کیا ہو تو پھر وہ واقعی التفات کے قابل ہو گا۔سو جب ہم انا جیل کو دیکھتے ہیں تو وہاں حضرت مسیح علیہ السلام اپنے ایک ارادتمند کے قول کے جواب میں اپنی نسبت صاف طور پر فرماتے ہیں کہ ” تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے کوئی نیک نہیں سوائے باپ کے جو آسمان پر ہے“۔معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو معصومیت کے مقام پر کھڑا کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔البتہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور معصوم ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں فرماتا ہے ” والـلـه يـعـصـمـک مـن الناس ، یعنی اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں سے صرف تو ہی معصوم ہے۔حضرت مفتی صاحب کا یہ استدلال سن کر پادری صاحب بہت گھبرائے اور جلسہ گاہ چھوڑ کر چل دیئے۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بشپ صاحب کے اس لیکچر کا علم ہوا تو حضور نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں بشپ صاحب کو معصوم نبی“ کے موضوع پر بحث کرنے کیلئے بلایا اور لکھا کہ کسی نبی کا معصوم ثابت کرنا کوئی عمدہ نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا کیونکہ نیکی کی تعریف میں کئی مذاہب کا آپس میں شدید اختلاف ہے۔مثلاً بعض مذاہب شراب پینا حرام کہتے ہیں بعض نہ صرف جائز بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔پس عمدہ طریقہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور آنحضر