لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 476 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 476

476 با بوالہی بخش صاحب اکو نٹنٹ اور ان کے ساتھیوں نے یو نیورسٹی ہال کی تعمیر کے ساتھ وہاں ایک مسجد بھی بنائی تھی جو بالکل ویران پڑی رہتی تھی۔آج سے چالیس سال پہلے وہاں سول دفاتر کے احمدی احباب نے نمازیں پڑھنا شروع کیں اور قریب قریب پندرہ سال متواتر پڑھتے رہے لیکن ۱۹۳۵ء میں جب کہ احرار تحریک زوروں پر تھی اس مسجد پر بھی غیر احمدیوں نے قبضہ کر لیا۔مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔حضرت سید نادر شاہ صاحب جہلمی نے افریقہ سے واپس آ کر چمڑہ منڈی میں یہ احاطہ چمڑہ کے کاروبار کے لئے حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر اور ان کے بھائیوں سے خریدا تھا۔مگر جب انہیں معلوم ہوا کہ جماعت کو مسجد بنانے کے لئے اس احاطہ کی ضرورت ہے تو انہوں نے قیمت خرید یعنی ساڑھے گیارہ ہزار روپیہ پر ہی یہ احاطہ جماعت کو دے دیا۔مسجد کی تعمیر کا فیصلہ تو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب امیر جماعت لاہور کی موجودگی ہی میں ہو گیا تھا لیکن تعمیر کا کام حضرت حکیم محمدحسین صاحب موجد مفرح عنبری نے ان ایام میں کیا جبکہ حضرت چوہدری صاحب حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ویمبلے کا نفرنس میں شرکت کے لئے لندن تشریف لے گئے تھے۔۱۹۴۷ء کے بعد جب جماعت کی تعداد لا ہور میں ترقی کرگئی اور مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ بالکل ناکافی ثابت ہوئی تو حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی نے محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت لاہور کو ارشادفرمایا کہ ایک وسیع مسجد کی تعمیر کے لئے دس ہزار روپے جمع کرو تا زمین خریدی جا سکے۔محترم بابو فضل دین صاحب سیالکوٹی ریٹائر ڈ سپرنٹنڈنٹ ہائی کورٹ کا بیان ہے کہ محترم شیخ صاحب نے انہیں اور محترم میاں غلام محمد صاحب اختر کو فرمایا کہ میری کارلو اور مسجد کی زمین کے لئے چندہ جمع کرو۔ہم نے اسی روز شام تک پانچ ہزار روپے کے وعدے اور پانچ ہزار نقد محترم امیر صاحب کی خدمت میں پیش کئے جس پر حضور نے اظہار خوشنودی فرمایا۔۱۹۵۴ء میں محترم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب جماعت احمد یہ لاہور کے امیر مقرر ہوئے۔آپ نے دارالذکر کی انداز 41 کنال زمین سولہ ہزار روپیہ میں خریدی اور اللہ کا نام لے کر تعمیر کا کام شروع کر دیا۔حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک بکرے کی قربانی کرنے کے بعد اس عظیم الشان مسجد کی بنیاد رکھی۔خدام الاحمدیہ نے وقار عمل کے ذریعہ ابتدا میں ٹھوس کام کیا۔