لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 475
475 چینیاں والی مسجد کے متولی ملاں غلام غوث صاحب مرحوم تھے۔یہ حضرت سید دلاور شاہ صاحب بخاری کے نانا تھے۔انہوں نے بھی ۱۹۰۴ء میں بیعت کر لی تھی جس پر ان سے تو لیت چھین لی گئی۔محلہ چابک سواراں میں حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب مشہور پنجابی شاعر کے مکان کے پاس بھی ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔یہ بھی احمدیوں کے قبضہ میں تھی۔لیکن بابا ہدایت اللہ صاحب کی وفات کے بعد غیر احمد یوں نے اس پر بھی قبضہ کر لیا جس پر عدالت میں مقدمہ چلا۔عدالت کے فیصلہ کے ماتحت دونوں فریق کو اس مسجد میں نماز پڑھنے کا حق حاصل ہو گیا مگر احمدیوں نے روز روز کے جھگڑے کی وجہ سے اس مسجد کو بھی چھوڑ دیا۔اس اثنا میں مغلپورہ گنج میں جماعت کی ایک مسجد بن گئی گذشتہ ایک دو سال میں محترم چوہدری غلام رسول صاحب صدر حلقہ گنج کی ہمت اور کوشش سے پرانی مسجد میں اہم تبدیلیاں کر کے اسے ایک بہت خوبصورت مسجد بنا دیا گیا۔فجزاه الله احسن الجزاء۔شاہدرہ میں حضرت حکیم احمد دین صاحب موجد طب جدید کے مکان کے پاس جو مسجد ہے۔وہ تا حال جماعت اور محلہ کے غیر از جماعت لوگوں کے مشترکہ استعمال میں ہے مگر نماز جمعہ پڑھنے کا حق صرف جماعت کو حاصل ہے۔شاہدرہ میں ایک اور مسجد احمدیوں کے قبضہ میں ہے جس میں جماعت کے جلسے ہوتے رہتے ہیں۔اسلامیہ پارک میں محترم چوہدری عبد الرحیم صاحب صدر حلقہ کے مکان کے پہلو میں جو مسجد ہے اس کی زمین محترم چوہدری صاحب کی اہلیہ مرحوم نے عطا کی تھی۔وہ مسجد بھی جماعت کی ضروریات کو کافی حد تک پورا کر رہی ہے۔حلقہ محمد نگر اور حلقہ بھارت نگر میں بھی مسجد میں تیار ہو چکی ہیں۔مزنگ میں حضرت مولوی محمد صاحب نومسلم ( یه بزرگ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے داماد تھے ) کا بڑا اثر تھا۔ان کے اثر کی وجہ سے غلہ منڈی کے رئیس سید برکت علی صاحب نے جو مسجد تعمیر کروائی تھی وہ جماعت کو دے دی تھی جس میں سول دفتر کے احمدی ملازمین دس بارہ سال تک نمازیں پڑھتے رہے مگر بعد میں سید صاحب اور ان کی اولاد نے مقامی لوگوں کے دباؤ کے ماتحت وہ مسجد غیر احمدیوں کے سپر د کر دی۔