لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 458 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 458

458 بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ہوگا۔مگر میں بلا تامل کہہ سکتا ہوں کہ یہ باتیں محض مطالعہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں بلکہ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اس روانی سے کسی نے تاریخی معلومات کو مسلسل بیان کیا ہو اور پھر کسی تاریخی مضمون سے ایسا لطف آیا ہو جو کسی داستان گو کی داستان میں بھی نہ آ ،، سکے۔اس کے لئے میں پھر شکر یہ ادا کرتا ہوں۔(۳) تیسری تقریر حضور نے ”مذہب اور اس کی ضرورت“ کے موضوع پر احمد یہ ہوٹل لاہور میں فرمائی۔۱۸۔فروری ۱۹۲۰ء کی یہ تقریر حضور نے ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت میں کی جو دراصل مستشرقین یورپ کے اعتراضات کے جوابات میں تھی۔حضور نے موجودہ علمی تحقیقات کو مدنظر رکھ کر ایسے دلکش پیرا یہ میں یہ تقریر کی کہ سامعین وجد میں آگئے۔(۴) چوتھی تقریر حضور نے ۱۹۔فروری ۱۹۲۰ء کو احاطہ میاں چراغ دین صاحب بیرون دہلی دروازہ میں کی۔یہ ایک قسم کی تبلیغی تقریر تھی جو احمدیوں اور غیر احمدیوں کے مجمع میں مسلسل اڑھائی گھنٹہ تک جاری رہی۔اس تقریر میں حضور نے صداقت احمد یہ کو ایسے اچھوتے رنگ میں بیان فرمایا کہ اکثر سامعین کی آنکھیں پر نم تھیں اور وہ بے حد متاثر نظر آتے تھے۔ا۔(۵) پانچویں * تقریر میں جو ۲۴۔فروری کو ہوئی خالص جماعت احمدیہ لاہور مخاطب تھی مگر موضوع اس قسم کا تھا جس سے ساری جماعت فائدہ اٹھا سکتی تھی۔اے یادر ہے کہ ان ایام میں حضور صرف تقاریر ہی نہیں فرماتے تھے۔بلکہ دن کے اوقات میں اکثر غیر احمدی اور غیر مسلم حضرات ملاقات کے لئے بھی تشریف لاتے رہتے تھے۔چنانچہ بعض مشہور ہستیوں کا ذکر الفضل کے اوراق میں بھی ہے۔انہی میں سے ایک صاحب مسٹر رچرڈ پر نسپل اسلامیہ کالج لاہور ۲۲ فروری کو حضور امرتسر تشریف لے گئے اور بندے ماترم ہال میں صداقت اسلام اور ذرائع ترقی اسلام پر ایک شاندار تقریر فرمائی جو علماء سوء کی اشتعال انگیزی کے باوجود بخیر و خوبی ختم ہوئی۔رات کی گاڑی سے حضور واپس لا ہور تشریف لے آئے ( الفضل ۱۵۔مارچ ۱۹۲۰ء )