لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 454
454 سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے محترم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب نے فرمایا کہ ہوٹل کی نگرانی کے لئے ایک وارڈن ہوا کرتا تھا جو ہوٹل اور نظارت تعلیم و تربیت کے درمیان بطور واسطہ ہوا کرتا تھا۔۱۹۳۲ء سے لے کر ۱۹۴۰ ء تک وارڈن کے فرائض میرے ذمہ رہے۔تقسیم ملک کے بعد ہوٹل ایک عرصہ تک بند رہا۔اب پھر ۱۹۶۴ء سے گلبرگ کی ایک کوٹھی میں جاری ہوا مگر تھوڑے عرصہ کے بعد ہی وہاں سے منتقل ہو کر کینال پارک میں آ گیا۔اب کینال پارک میں ہے اور محترم چوہدری رحمت خاں صاحب سابق امام مسجد لندن سپرنٹنڈنٹ ہیں۔صداقت مریمیہ کی تصنیف ۱۹۱۵ء ☆ پیچھے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت میاں معراج دین صاحب عمر ایک ماہر انشا پرداز تھے اور سلسلہ کی تائید میں کتب اور اشتہارات لکھتے رہتے تھے۔1919ء میں آپ نے صداقت مریمیہ کے نام سے حضرت مریم کی صدیقیت پر ایک پر از معلومات کتاب لکھی۔غیر مبائعین کے ساتھ مباحثے اور گفتگو جاری رہتی تھی۔اور فریقین کی طرف سے ٹریکٹ اور کتا ہیں بھی شائع ہوتی رہتی تھیں۔یہ سلسلہ ۱۷۔۱۹۱۶ء میں بھی برابر جاری رہا۔لاہور میں امارت کا قیام - ۱۹۱۸ء محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب قانونی تعلیم کو مکمل کر کے 1911ء میں لندن سے واپس اپنے وطن آگئے تھے اور آتے ہی سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کر دی تھی۔اپریل 1911ء کے قریب آپ لا ہور منتقل ہو گئے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت لاہور کی تنظیم کو مستحکم کرنے کے لئے آپ کو لاہور کی جماعت کا امیر مقرر فرمایا۔آپ کے تقرر سے پہلے جماعت میں امارت کا عہدہ نہیں ہوا کرتا تھا۔۱۹۱۸ء میں حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے لاہور میں حضرت چوہدری صاحب موصوف کو اور فیروز پور میں حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو امیر مقرر فرمایا۔اور اس طرح ان دونوں بزرگوں کے ذریعہ سے جماعت میں امارات کی ابتداء شروع ہوئی۔جناب چوہدری صاحب نے وکالت کے پیشہ میں جلد ہی نمایاں ترقی کر لی اور آپ کا شمار لاہور کے چوٹی کے آج کل ہوٹل ۱۰۸ سی ماڈل ٹاؤن میں منتقل ہو چکا ہے۔مؤلف