لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 421
421 ہوئی۔آپ نے کئی منٹوں تک گردن نیچی رکھی“۔سوم : حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے حضور جب یہ لوگ پیش ہوئے تو کسی قابل قدر کام کرنے کا انعام حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ مجرم ہونے کی حیثیت میں پیش ہوئے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ کوئی ایسا کام کرنے والے تھے جس کی وجہ سے مجرم ہونے کی صورت میں ان کی پیشی ہونی مقدر تھی۔چنانچہ ۳۱۔جنوری ۱۹۰۹ء کو ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب دونوں کو دوبارہ بیعت کرنا پڑی۔چهارم : مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب دونوں لیڈروں میں بھی کامل اتحادو یگانگت نہیں ہوگی بلکہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے۔چنانچہ واقعات شاہد ہیں کہ آخر وقت تک خواجہ صاحب کا طرز عمل آزادانہ رہا ہے۔انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو اپنا واجب الاطاعت لیڈر نہیں سمجھا۔وو پنجم : یہ جو دکھایا گیا کہ مولوی صاحب کی پیشی پہلے ہوئی اور خواجہ صاحب کی بعد میں۔میرے نزدیک رؤیاء کا یہ پہلو بھی پورا ہو چکا ہے۔چنانچہ مولوی صاحب پہلے روز ہی بیعت کرنے کے لئے تیار نہ تھے مگر خواجہ صاحب نے بشرح صدر بیعت کی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے دل میں پہلے ہی روز سے غبار تھا اور وہ حضرت خلیفہ اول کی اطاعت قبول نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن مجبور ہو گئے۔اس لئے ان کی پیشی رویاء میں پہلے دکھائی گئی۔محترم خواجہ صاحب مرحوم نے جو اپنے لندن جانے پر اس رؤیاء کو چسپاں کیا ہے وہ بالکل دوراز قیاس ہے کیونکہ لندن میں آپ مجرم ہونے کی حیثیت سے نہیں گئے بلکہ ایک پرائیوٹ کام کرنے کے لئے گئے تھے اور تبلیغ اسلام کا کام بھی کرتے تھے۔البتہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد ان لوگوں نے انجمن اور خلافت کے موضوع پر جماعت میں انتشار پیدا کرنا شروع کر دیا اور خلافت پر انجمن کی بالا دستی ثابت کرنے کا پراپیگنڈہ شروع کیا تو حضرت خلیفہ مسیح الاوّل نے جنوری ۱۹۰۹ء میں جماعت کے نمائندوں کو بلا کر مسجد مبارک میں ان کے سامنے ان لوگوں کے پراپیگینڈے کی قلعی کھولی اور انہیں سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری ان گمراہ کن کارروائیوں سے تمہاری بیعت ٹوٹ چکی ہے اور اب تم میرے مرید نہیں رہے۔ہاں علیحدگی میں مشورہ کر لو۔اگر تمہارا دل مانتا ہے کہ تم