لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 408
408 کسی مزید تجسس اور تحقیق کی تلقین نہ فرمائی اور وہیں بیٹھ کر اپنے عشاق کے ہاتھ اپنے مبارک ہاتھوں میں لیکر بیعت کے پُر ہدایت الفاظ دہرا دئیے۔دل مسرت ایمان سے چھلک اٹھے۔آنکھیں خمار نورمحمدی سے ابل پڑیں۔ایسی کہ ابا جان کو اپنے مشفق استاد کا تحریری بیعت والا رقعہ بھی پیش کرنا یاد نہ رہا۔لیکن جونہی وہ حبیب لبیب علیہ السلام نگاہوں سے اوجھل ہوا یہ ایمان افروز نظارہ بدلا۔حضرت ابا جان کو اس احساس ادائیگی فرض نے جھنجوڑ ، فوراً اٹھے اور دروازے پر پھر جا کر دستک دی۔خادم باہر آیا۔عرض کی۔حضرت صاحب تک یہ التجا پہنچاؤ کہ ایک لمحے کے لئے باہر تشریف لے آئیں ایک پیغام دینا ہے خادم اندر سے جواب لایا کہ پیغام اسی کو دے دیا جائے دوبارہ التجا کی پیغام تحریری ہے اور اس کے متعلق تاکید ہے حضور ہی کے ہاتھوں میں دیا جائے اللہ رے عشق کے ناز و نیاز ایک ملاقات ہی میں نصیب عشق آسمانوں پر جا پہنچا۔حضور باہر تشریف لائے۔سر پر عمامہ نہ تھا۔ایک قدم صحن مسجد میں تھا تو ایک باہر۔حضرت ابا جان نے تحریری بیعت والا رقعہ پیش کیا۔حضور نے مطالعہ کے بعد خفیف سے ابتسام کے ساتھ فرمایا: مولوی صاحب سے کہیں کہ اب وہ غزنوی باغ کے بجائے احمدی باغ کی بلبل ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں زیرہ میں بہت جلد ایک مضبوط اور مخلص جماعت دے گا۔“ اور زیرہ کا ہر محلہ ہر گلی بلکہ اس کا ذرہ ذرہ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے مسیح کے ارشاد کے طفیل واقعی ایک مضبوط اور مخلص و با اثر جماعت عطا فرمائی جس کی وہاں ایک اپنی خوبصورت مسجد تھی۔اپنی عید گاہ تھی جس میں ہر طبقے درجے اور سلیقے کے افراد شامل تھے اور قصبے کی میونسپلٹی کے تین مسلمان ممبروں میں سے اکثر دو ممبر انہی ساٹھ گھروں والی جماعت کے ہوتے تھے۔میں کن الفاظ میں اس انداز کو بیان کروں کہ حضرت ابا جان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حضرت مولوی صاحب والا رقعہ پیش کرنے کا یہ واقعہ بار بار کیسی لذت اور سرور کے ساتھ بیان کیا کرتے تھے۔پھر اس پاکیزہ مشاہدہ پر یہ اظہار مسرت بہجت کہ ان آنکھوں نے اپنے آقا و مولا کو ننگے سر ( بغیر عمامہ کے ) بھی دیکھا ہے