لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 398
398 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپ نے اپنی ساری ملازمت کا عرصہ وزیرستان میں گذارا۔کلرک بھرتی ہوئے اور ریذیڈنٹ کے دفتر میں سپر نٹنڈنٹ ہو کر ریٹائر ہوئے۔دوران ملازمت ایک احمدی تحصیلدار کی تبلیغ سے آپ پر صداقت آشکار ہوئی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں جب کلرک تھا تو سیکنڈ کلرک کی آسامی خالی ہوئی۔میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔حضور کا جواب آیا کہ دعا کی گئی مگر وہ جگہ کسی اور کومل گئی۔اس کے فورا بعد انگریز افسر ہیڈ کلرک سے ناراض ہو گیا اور اسے فارغ کر کے بجائے کسی سیکنڈ کلرک کو ہیڈ کلرک بنانے کے مجھے ہیڈ کلرک بنا دیا۔ملازمت کے دوران آپ تبلیغ کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔تقسیم ملک کے بعد لاہور میں محلہ گڑھی شاہو میں سکونت اختیار کی اور ۱۹۶۰ء میں وفات پائی اور لا ہو رہی میں مدفون ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ مولانا عبدالمجید سالک مرحوم کے حقیقی چاتھے۔اولاد : ملک فضل الرحمن صاحب۔عطا الرحمن صاحب۔اقبال بیگم لاہور کے پاک ممبروں کی تعیین 1 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے: لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ان کو اطلاع دی جائے۔۔۔۔الخ غیر مبائعین حضرات اپنے لٹریچر میں اس الہام کو اپنی جماعت کا اکابر پر چسپاں کر کے ہمیشہ یہ شائع کرتے رہتے ہیں کہ جناب مولوی محمد علی صاحب جناب خواجہ کمال الدین صاحب جناب شیخ رحمت اللہ صاحب جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور جناب ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب وغیرہ۔اس الہام کے مصداق ہیں۔حالانکہ اگر سلسلہ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو ان حضرات میں سے سوائے جناب شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویر ہاؤس کے اور کسی پر یہ الہام چسپاں نہیں ہوتا اور اس کی تفصیل یوں ہے کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دسمبر ۱۹۰۰ ء کے دوسرے ہفتہ میں ہوا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ۱۹۰۰ء میں جماعت احمدیہ کے کون کون سے ممبر لاہور میں موجود تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۸ - اگست ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس کا عنوان ہے ” پیر مہر علی شاہ