لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 394
394 میں ہوئی۔موصیہ تھیں۔امانتا کراچی میں دفن ہیں۔انشاء اللہ عنقریب انہیں ربوہ لاؤں گا۔زم شیخ صاحب نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وو میں نے پانچویں جماعت تک تعلیم اپنے گاؤں چوہدری والا میں پائی۔اس کے بعد حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر اور حضرت ماسٹر محمد طفیل صاحب کی زیر نگرانی بٹالہ کے اے۔ایل۔او۔ای ہائی سکول میں آٹھویں تک تعلیم حاصل کرتا رہا۔اس دوران میں حضرت والد صاحب کی تبدیلی موضع ناتھ پور متصل قادیان میں ہوگئی اور مجھے انہوں نے قادیان کے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کرا دیا۔میٹرک میں نے ۱۹۲۲ء میں پاس کیا۔میٹرک کے بعد لاہور کے اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا۔مگر چند دن بعد ہی سول انجنئیر نگ کالج کراچی میں داخلہ مل گیا۔وہاں دو سال کا کورس تھا۔پاس کرنے کے بعد مقابلہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے سنٹرل گورنمنٹ سے ایگزیکٹو انجنئیر کے عہدہ سے مارچ ۱۹۵۹ء میں ریٹائر ہوا۔ریٹائر ہونے کے بعد اپنا کام شروع کر دیا لیکن فوراً ہی اسٹیٹ بنک کراچی والوں نے بلالیا اور اسی دوران مغربی پاکستان گورنمنٹ نے ”الفلاح بلڈ نگ لاہور کی تعمیر کی نگرانی کے لئے بطور سپر نٹنڈنگ انجنئیر (ایس ای ) مقرر کیا۔آج کل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہاں سے ریٹائر ہو کر نون قیوم کمپنی میں بمشا ہر ہ۔/ ۲۰۰۰ روپیہ کام کر رہا ہوں۔پنشن الگ ہے۔اس دوران کراچی کا احمدیہ ہال بنوایا۔دار الصدر کراچی میں حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی کوٹھی اپنی نگرانی میں تیار کروائی اور بھی سلسلہ کی عمارات میری نگرانی میں تیار ہوئیں۔آج کل لاہور میں ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے حلقہ دارالذکر کا صدر ہوں اور زعیم اعلیٰ انصار اللہ لاہور ہوں۔مرکز ربوہ میں بھی قریباً تمام اہم عمارتوں کی تعمیر کے سلسلے میں مشورہ کے لئے مجھے بلایا جاتا ہے اور میں اسے اپنے لئے باعث سعادت یقین کرتا ہوں۔فالحمد للہ علی ذلک۔“ اولاد: شیخ گلزار الحق صاحب۔شیخ عبد الصمد صاحب۔شیخ عبدالسمیع منصور احمد۔ناصرہ بیگم گلشن آرا۔انجم آرا۔غزالہ