لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 393 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 393

393 شرائط کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں تا حضرت مرزا صاحب کو یہ کہنے کا موقعہ نے ملے کہ تم نے تو بہ نہیں کی ورنہ تمہارے ہاں اولا دضرور ہو جاتی۔” جب مولوی صاحب موصوف نے حضرت زکریا علیہ السلام کی توبہ کا طریق بتایا تو والد صاحب نے پورے اہتمام کے ساتھ اس پر عمل کیا۔تین ماہ گذرنے کے بعد ایک دن میری والدہ رو پڑی اور حضرت والد صاحب کو کہا کہ آگے تو کچھ امید تھی مگر اب تو بالکل ہی جاتی رہی اس لئے آپ مجھے میرے بھائی شیخ غلام رصول صاحب سب انسپکٹر پولیس کے پاس امرتسر بھجوا دیں میں وہاں ہسپتال میں اپنا علاج کرواؤں۔حضرت والد صاحب نے فرمایا کہ نہیں ! میں دائی کو بھیجتا ہوں۔تھوڑے وقفہ کے بعد دائی نے واپس آ کر بیان کیا کہ پٹواری جی! معلوم ہوتا ہے خدا بھول گیا ہے۔والد صاحب نے فرمایا کہ نہیں! چونکہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھولے ہوئے تھے اس لئے اس نے بھی ہمیں بھلا دیا تھا چنانچہ وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ نے لڑکا دیا اور وہ میں ہوں و نجواں سے دھر مکوٹ تین چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔میری پیدائش کے فوراً بعد وہ مجھے دھر مکوٹ کی مسجد میں لے گئے جہاں کہ مولوی صاحب نماز پڑھایا کرتے تھے۔والد صاحب کے عزیز واقارب نے جو کثرت سے اس موقعہ پر جمع ہو گئے شور مچایا کہ آدھی رات کا وقت ہے اس وقت اس کو باہر مت لے جاؤ۔مگر والد صاحب نے فرمایا کہ یہ مرے گا نہیں اور اسے کوئی خدشہ نہیں کیونکہ یہ حضرت مرزا صاحب کی دعا سے پیدا ہوا ہے۔چنانچہ صبح مجھے واپس ونجواں لے آئے۔ونجواں چونکہ مسلمانوں کا گاؤں تھا اس لئے سب کو اکٹھا کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا یہ نشان وضاحت سے بیان فرمایا اس پر قریباً سارا گاؤں اور دھر مکوٹ کے بہت سے احباب جو اس نشان کے گواہ تھے قادیان گئے اور بیعت کر لی۔حضرت والد صاحب نے پچانوے سال کی عمر پائی۔۱۹۴۲ء میں فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں مدفون ہوئے۔والدہ مکرمہ حضرت عائشہ بی بی صاحبہ نے بھی اسی زمانہ میں بیعت کر لی تھی۔ان کی وفات ۱۹۵۵ء میں ایک سو پانچ سال کی عمر میں کراچی