لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 37
37 ہمیں یہ پتہ ملا ہے کہ جناب مولوی سید محمد علی صاحب کا نپوری، جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی اور جناب مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی نے اس جلسہ کی طرف کوئی جو شیلی توجہ نہیں فرمائی اور نہ ہی ہمارے مقدس زمرہ علماء سے کسی اور لائق فرد نے اپنا مضمون پڑھنے یا پڑھوانے کا عزم بتایا۔ہاں دو ایک عالم صاحبوں نے بڑی ہمت کر کے مانحن فیها میں قدم رکھا مگر الٹا۔اس لئے انہوں نے یا تو مقررہ مضامین پر کوئی گفتگو نہ کی یا بے سروپا کچھ ہانک دیا جیسا کہ ہماری آئندہ رپورٹ سے واضح ہو گا۔غرض جلسہ کی کارروائی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان تھے جنہوں نے اس میدان مقابلہ میں اسلامی پہلوانی کا پورا حق ادا فرمایا ہے اور اس انتخاب کو راست کیا ہے جو خاص آپ کی ذات کو اسلامی وکیل مقرر کرنے میں پشاور راولپنڈی، جہلم شاہ پور بھیرہ، خوشاب، سیالکوٹ، جموں، وزیر آباڈلا ہوڑ امرتسر، گورداسپور لدھیانہ شملہ دہلی انبالہ ریاست پٹیالہ کپورتھلہ، ڈیرہ دون الہ آباد مدراس، بمبئی، حیدر آباد دکن، بنگلور و غیره بلاد ہند کے مختلف اسلامی فرقوں سے وکالت ناموں کے ذریعہ مزین بدستخط ہو کر وقوع میں آیا تھا۔حق تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے رو برو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا۔مگر خدا کے زبر دست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچا لیا۔بلکہ اس کو اس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمائی کہ موافقین تو موافقین مخالفین بھی بچے فطرتی جوش سے کہہ اٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے بالا ہے۔صرف اسی قدر نہیں بلکہ اختتام مضمون پر حق الامر معاندین کی زبان پر یوں جاری ہو چکا کہ اب اسلام کی حقیقت کھلی۔جو انتخاب تیر بہدف کی طرح روز روشن میں ٹھیک نکلا اب اس کی مخالفت میں دم زدن کی گنجائش ہے ہی نہیں۔بلکہ ہمارے فخر و ناز کا موجب ہے اس لئے کہ اس میں اسلامی شوکت ہے اور اسی میں اسلامی عظمت اور حق بھی یہی اخبار ” چودھویں صدی“ نے یکم فروری ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں لکھا: