لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 36 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 36

36 رؤسا، عمائید پنجاب، علماء وفضلاء بیرسٹر وکیل، پروفیسر اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، ڈاکٹر غرضیکہ اعلیٰ اعلیٰ طبقہ کی مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔انہیں نہایت صبر و تحمل کے ساتھ برابر چار پانچ گھنٹے اس وقت گویا ایک ٹانگ پر کھڑا رہنا پڑا۔اس مضمون کے لئے اگر چہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی مقرر تھے۔لیکن حاضرین جلسہ کو اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو تب تک کا رروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جائے۔ان کا ایسا فرما نا عین اہل جلسہ اور حاضرین جلسہ کی منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقت کے گزرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دے دیا تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکر یہ ادا کیا۔یہ مضمون شروع سے آخر تک یکساں دلچپسی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔۱۳ کلکتہ کے قدیم اخبار جنرل و گوہر آصفی نے ۲۴ جنوری ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں جلسہ اعظم منعقدہ لاہور اور فتح اسلام کے دوہرے عنوان سے ایک شاندار تبصرہ شائع کیا جس کا ایک حصہ درج ذیل ہے۔ہمیں معتبر ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ کارکنان جلسہ نے خاص طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور سرسید احمد صاحب کو شریک جلسہ ہونے کیلئے خط لکھا۔تو حضرت مرزا صاحب نے گو علالت طبع کی وجہ سے بنفس نفیس شریک جلسہ نہ ہو سکے مگر اپنا مضمون بھیج کر اپنے ایک شاگرد خاص جناب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اس کی قرآت کیلئے مقرر فرمایا۔لیکن جناب سرسید نے شریک جلسہ ہونے اور مضمون بھیجنے سے کنارہ کشی فرمائی۔یہ اس بناء پر نہ تھا کہ وہ معمر ہو چکے اور ایسے جلسوں میں شریک ہونے کے قابل نہ رہے ہیں۔اور نہ اس بناء پر تھا کہ انہیں ایام میں ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد میرٹھ میں مقرر ہو چکا تھا بلکہ یہ اس بناء پر تھا کہ مذہبی جلسے ان کی توجہ کے قابل نہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنی چٹھی میں جس کو ہم انشاء اللہ اپنے اخبار میں کسی اور وقت درج کریں گے صاف لکھ دیا ہے کہ وہ کوئی واعظ یا ناصح یا مولوی نہیں۔یہ کام واعظوں یا ناصحوں کا ہے۔جلسے کے پروگرام کے دیکھنے اور نیز تحقیق کرنے سے