لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 367 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 367

367 ایک مرتبہ آپ نے حضور کی خدمت میں اولاد نرینہ کے لئے درخواست دعا کی جس پر حضور نے دعا فرمائی۔اس دعا کے بعد ۱۹۰۴ء میں آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک لڑکا عطا فرمایا جس کا نام فیروز الدین رکھا گیا۔اس خوشی میں آپ نے حضور کی خدمت میں پچاس روپیہ کی رقم بطور نذرانہ پیش کی۔۱۹۷ء میں آپ نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔بیعت کے بعد رشتہ داروں نے سخت مخالفت کی مگر آپ ثابت قدم رہے۔آپ چمڑے کے تاجر تھے۔کاروبار میں دیانت وامانت آپ کا شیو ہ تھا۔متوکل انسان تھے۔خدا تعالیٰ کے حضور روروکر دعائیں کیا کرتے تھے اور اکثر دعائیں آپ کی قبول ہوتی تھیں۔آپ کی نیکی اور تقویٰ کو دیکھ کر بعض اوقات غیر احمدی بھی آپ سے دعا کروانے آیا کرتے تھے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی جب بحیثیت مبلغ لا ہور میں مقیم تھے۔تو آپ نے ان سے پہلے ناظرہ اور پھر باترجمہ قرآن شریف ختم کیا۔جب مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ کے لئے زمین خریدنے کا سوال پیدا ہوا تو آپ نے اس میں پانچ ہزار روپیہ یکمشت چندہ دیا۔آپ ۱۵۔فروری ۱۹۴۱ء کو فوت ہوئے اور کوٹ خواجہ سعید میں دفن کئے گئے۔آپ کی رفیقہ حیات مسماۃ اللہ جوائی صاحبہ بھی صحابیہ تھیں۔اکثر قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔سورۃ لیبین زبانی یاد تھی۔صدقہ و خیرات کے لئے آپ بہت مشہور تھیں۔آپ کی وفات ۳۰۔جون ۱۹۳۵ ء کو ہوئی۔اور کوٹ خواجہ سعید لاہور میں مدفون ہوئیں۔فانالله و انا اليه راجعون۔اولاد : آپ نے دو بیٹیاں اور تین بیٹے اپنے پیچھے چھوڑے۔بیٹوں کے نام یہ ہیں۔فیروز دین۔منور دین۔عبدالحمید۔محترم ڈاکٹر غلام محمد صاحب غیر مبالع ولادت : ۶ - نومبر ۱۸۸۶ء بیعت : بچپن میں وفات : ۲۸۔ستمبر ۱۹۵۹ء محترم ڈاکٹر غلام محمد صاحب مورخہ ۶۔نومبر ۱۸۸۶ء کو پتھرانوالی حویلی اندرون موچی گیٹ لاہور میں داروغہ نبی بخش صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔داروغہ نبی بخش صاحب شملہ میں گورنمنٹ آف انڈیا