لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 353 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 353

353 با بومیاں وزیر محمد صاحب، میاں نذیر محمد صاحب اور میاں عبد الرحمن صاحب۔با بومیاں وزیر محمد صاحب دسویں جماعت پاس کر کے پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ان کا ایک واقعہ خاص طور پر مشہور ہے کہ ایک مرتبہ جب سرکاری کام زیادہ ہو گیا تو انہوں نے کام کو ہلکا کرنے کیلئے کچھ چٹھیاں ضائع کر دیں۔رپورٹ ہونے پر جب سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا تو صاف اقرار کیا کہ ہاں میں نے ایسا کیا ہے اور اس واسطے کیا ہے کہ کام زیادہ ہو گیا تھا۔سب لوگ ان کی اس سچائی پر حیران رہ گئے اور سپرنٹنڈنٹ پر بھی بڑا اچھا اثر ہوا۔دمہ کی شکایت رہتی تھی اس لئے جلد ریٹائر ہو گئے اور بقیہ عمر قادیان میں گزاری۔مرحوم احمدیت کے فدائی تھے۔محض احمدیت کی خاطر اپنی دوسری شادی بھی بدوملہی میں کی اور اپنی ہمشیرہ کی شادی محترم مرزا محمد اسماعیل صاحب سکنہ اندرون بھاٹی گیٹ کے ساتھ کی۔ان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔وزیر محمد نام کے دو موصی تھے۔ایک یہ اور دوسرے رہتاس ضلع جہلم کے تھے۔جو بہت پرانے بزرگ تھے۔مگر یہ پہلے فوت ہو گئے۔حضرت مولوی سیدمحمد سرور شاہ صاحب جو جس کا پرداز بہشتی مقبرہ کے سیکرٹری تھے۔انہوں نے حضور کی خدمت میں رہتاس والے وز یر محمد صاحب کی مسل پیش کر دی۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا بھی کہ یہ مسل تو کسی پرانے صحابی کی معلوم ہوتی ہے اور ان سے تو میری واقفیت حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے زمانہ میں ہوئی۔مگر حضرت مولوی صاحب کے یہ عرض کرنے پر کہ حضور میں نے تحقیق کر لی ہے۔حضور نے انہیں خاص قطعہ میں دفن کرنے کی اجازت دے دی۔بعد میں پتہ چلا کہ مسل والے بزرگ رہتاس ضلع جہلم کے تھے۔اولاد : میاں عبدالحی صاحب مبلغ انڈونیشیا، عبدالمجید عبدالقیوم منیرہ۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیلی نوٹ : حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ عنہ کا ذکر ترتیب کے لحاظ سے ۱۸۹۷ء میں آنا چاہئے تھا مگر ذہن میں یہ خیال غالب رہا کہ آپ کو خلافت اولی میں بسلسلہ تبلیغ لا ہور بھیجا گیا تھا اس لئے خلافت اولی کے واقعات میں آپ کا ذکر کیا جائے گا۔مگر آج اچانک اس طرف توجہ ہوئی کہ