لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 348
348 ”میری شادی کے روز شام کو حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بلا بھیجا۔چونکہ حضرت والد صاحب ابھی برات کے طریق کو اپنی تحقیقات میں اسلامی طریق نہیں سمجھتے تھے اس لئے شہر پہنچا ہی تھا کہ آپ نے واپس بلا لیا اور میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے واپس چلا گیا اور بعد میں سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ہمشیرہ بو زینب بیگم صاحبہ دلہن کو دارا مسیح سے دار السلام لے گئیں۔۴۳ ۲۳ ۲۴ جون ۱۹۱۷ء کو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے وسیع پیمانہ پر دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نمونہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنے اور اطاعت زوج کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کی مستورات کے لئے خاص طور پر قابل تقلید ہے۔آپ نے اپنے خاوند حضرت نواب عبداللہ خاں صاحب کی لمبی بیماری کے عرصہ میں ان کی اس قدر خدمت کی کہ جس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔خاکسار راقم الحروف کو جب بھی ماڈل ٹاؤن میں حضرت نواب صاحب کی زیارت کا موقعہ ملتا تھا۔آپ اپنی بیماری کا ذکر کرنے کی بجائے ہمیشہ اس امر کا ذکر کیا کرتے تھے کہ آپ کی بیگم صاحبہ آپ کی اس قدرخدمت کرتی ہیں کہ آپ ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ کہیں بیمار نہ پڑ جائیں۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے خدمت سلسلہ کا ایک یہ موقعہ بھی عطا فر ما یا کہ آپ نے یورپ کے قلب میں سوئٹزرلینڈ کی احمدیہ مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔فالحمد لله علی ذالک آپ آج کل اپنی کوٹھی واقعہ ماڈل ٹاؤن سی بلاک ۱۰۸ میں رہائش پذیر ہیں۔اولاد: صاحبزادی طیبه آمنه بیگم صاحبہ ولادت ۱۸ مارچ ۱۹۱۹ء نواب عباس احمد خاں صاحب ولادت ۲۔جون ۱۹۲۰ء صاحبزادی طاہرہ بیگم صاحبہ ولادت ۳۔جون ۱۹۲۱ء صاحبزادی ذکیہ بیگم صاحبہ ولادت ۲۳ نومبر ۱۹۲۳ء صاحبزادی قدسیہ بیگم صاحبہ ولادت ۲۰۔جون ۱۹۲۷ء صاحبزادی شاہدہ بیگم صاحبہ ولادت ۳۱۔اکتو بر ۱۹۳۴ء صاحبزادہ میاں شاہد احمد خاں صاحب ولادت ۱۰/۹۔اکتوبر ۱۹۳۵ء