لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 338 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 338

338 مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی ہے۔ان کی بیعت کی وجہ سے میرے دل میں بھی اس بات کی زبر دست خواہش پیدا ہوئی کہ میں کم از کم ایسے شخص کی زیارت تو کرلوں۔چنانچہ ہم کئی لڑکے اکٹھے ہوکر حضور کی زیارت کے لئے امرتسر اسٹیشن پر پہنچے۔امرتسر کی جماعت نے حضور کے لئے چائے وغیرہ کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔جب گاڑی آ کر اسٹیشن پر ٹھہری تو نا معلوم کیا کشش تھی کہ ہم نے بھی درود شریف پڑھتے ہوئے اور کشاں کشاں بڑھتے ہوئے حضور سے السلام علیکم کہا اور مصافحہ کیا۔حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھا جو بہت نورانی تھا۔چنانچہ جو طالب علم زیارت کے لئے گئے بعد ازاں ان میں سے کئی ایک کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ازاں جملہ ایک طالب علم عطر دین صاحب بھی تھے جو بعد ازاں ڈاکٹر عطر دین مشہور ہوئے اور آج کل قادیان میں درویشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے اسلامیہ کالج انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخلہ لیا۔اور جب موسمی تعطیلات میں اپنے گاؤں واپس گیا تو میرے ایک چچازاد بھائی چوہدری جیوے خاں صاحب بھی احمدی ہو چکے تھے اور اردگرد کے دیہات کر یام۔سڑوعہ کا ٹھ گڑھ اور بنگہ وغیرہ میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔تعطیلات کے ایام میں چوہدری جیوے خاں صاحب مذکور مجھے چوہدری غلام احمد صاحب سکنہ کریام سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں لا لا کر دیا کرتے تھے۔جن کو میں نے خوب پڑھا۔چنانچہ مجھ پر احدیت کی صداقت ظاہر ہوگئی اور میں نے اپریل ۱۹۰۴ء میں قادیان جا کر حضور کی بیعت کرلی_فالحمد لله علی ذالک ایف۔اے کا امتحان دینے کے بعد ۱۹۰۵ء میں قادیان شریف میں ایک مکان کرایہ پر لبی ایک سال لگا تار نمازوں۔درسوں اور جلسوں میں شامل ہو کر حضور کی صحبت سے مستفیض ہوتا رہا۔جب حضور نے رسالہ الوصیت لکھا تو خاکسار نے بھی تھوڑا عرصہ بعد ۱۵۔نومبر ۱۹۰۶ ء کو اپنی جائیدا دغیر منقولہ کی وصیت زیر نمبر ۱۵۲ کی اور پھر اس سلسلہ میں حصہ آمد کی وصیت ۲۸ دسمبر ۱۹۳۷ء کو کی۔جن ایام میں طاعون زوروں پر تھی۔ہمارا ایک تایا زاد بھائی چوہدری حمایت خاں طاعون میں گرفتار ہو گیا۔ایک ڈاکٹر نعمت خان نامی کو ہم نے علاج کے لئے بلایا۔اس نے ملاحظہ کے بعد کہا کہ اس کے پھیپھڑے خراب ہو گئے ہیں اور یہ ہرگز بچ نہیں سکتا۔خواہ مرزا صاحب بھی اس کے لئے دعا کریں اس کا طاعون سے خلاصی پانا ناممکن ہے۔یہ بھی کہا کہ اگر یہ شخص طاعون کا شکار ہونے سے بچ جائے تو میں بھی