لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 337 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 337

337 پادری حضرت اقدس کے ایک ادنیٰ غلام کے مقابلہ میں آنے سے بھی ڈر محسوس کرتا ہے۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ وہ 1910 ء میں اکو نٹنٹ جنرل لاہور کے دفتر میں ملازم ہوئے اور 1919 ء میں کاروبار کرنے کے ارادہ سے استعفیٰ دے دیا۔۱۹۲۵ء سے لے کر ۱۹۴۵ ء کے شروع تک بسلسلہ کا روبار ملتان رہے۔وہاں جماعت میں بطور جنرل سیکرٹری کام کرنے کی توفیق ملی۔۱۹۴۵ء سے لے کر اب تک لاہور میں ہیں۔درمیان میں دو سال مارچ ۱۹۵۸ء تا مارچ ۱۹۶۰ء ڈھاکہ اور چٹا کانگ میں رہنے کا موقعہ ملا۔وہاں بھی جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔اولاد: رشید احمد۔لطیف احمد۔حمید احمد۔نعیم احمد۔زبیدہ خاتون۔رضیہ سلطانہ۔بشریٰ ممتاز۔انیسہ فرحت۔محترم چوہدری غلام قادر خاں صاحب آف لنگر وعد ولادت : انداز أ۱۸۸۸ء بیعت : اپریل ۱۹۰۴ء محترم چوہدری غلام قادر خاں صاحب ولد چوہدری خیر وخاں صاحبہ سکنہ لنگڑ وعہ تحصیل نوانشہر ضلع جالندھر حال مکان نمبر ۲۱ و دیالہ سٹریٹ نمبر ا ا محلہ راجگڑھ چوبرجی لاہور سے ان کے خاندانی اور تعلیمی حالات دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا کہ میں ایک معزز راجپوت خاندان کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں۔ہمارے گاؤں اور علاقہ میں اکثریت راجپوتوں کی تھی۔میرے والد ماجد کا نام چوہدری خیر وخاں تھا جو کہ ایک صاحب علم۔صوم وصلوٰۃ کے پابند رئیس آدمی تھے۔میں ابھی چھٹی جماعت ہی میں تھا کہ آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔میرے بڑے بھائی چوہدری محمد امیر خاں میری سر پرستی کرتے تھے۔پلیگ کے ایام میں میرے بہنوئی ڈاکٹر دوست خاں مجھے اپنے پاس امرتسر لے گئے۔وہاں میں نے ۱۹۰۳ء میں فرسٹ ڈویژن لے کر میٹرک پاس کیا۔اس وقت میری عمر ۱۹۔۲۰ سال کی تھی۔۱۹۰۳ ء ہی کا واقعہ ہے کہ بورڈنگ ہاؤس میں جہاں میں رہا کرتا تھا ایک احمدی بورڈ رلڑ کے کریم اللہ نامی سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور نے بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آج جہلم جانے کیلئے امرتسر سے گزریں گے۔پیشتر اس کے حضرت حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کر یام قادیان سے واپس آ کر مجھے امرتسر بورڈنگ ہاؤس میں تشریف لا کر بتلا گئے تھے کہ انہوں نے حضرت