لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 332 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 332

332 کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں پر ہمارے دو بڑے بھائی مولوی جمال الدین صاحب اور مولوی کرم الدین صاحب اپنے کاروباری سلسلہ میں رہائش پذیر تھے۔ان دونوں نے وہاں حضور کی دستی بیعت کی۔اس کے بعد جب وہ اپنے گاؤں بھڑ یار میں واپس تشریف لائے تو انہوں نے سارے خاندان کو جمع کر کے تبلیغ کا حق ادا کیا۔جس کے نتیجہ میں ہمارا سارا خاندان بھی احمدی ہو گیا اور ہمارے والد صاحب کے جولوگ زیر اثر تھے۔ان میں سے بھی دو خاندان احمدی ہو گئے۔سب نے بذریعہ ڈاک بیعت کی۔اس کے بعد ہم ہر جلسہ پر اور آگے پیچھے بھی بڑی محبت اور اخلاص کے ساتھ قادیان جاتے رہے۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۴ء میں لا ہور تشریف لائے تو اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی وہاں میں نے بھی حضور کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذلک۔جس مکان میں ہم نے بیعت کی وہ حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کا مکان مبارک منزل تھا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جو آخری جلسہ سالا نہ ہوا اس میں بھی میں گیا تھا۔مجھے یاد ہے حضور سیر کیلئے ریتی چھلہ کی طرف تشریف لے گئے تھے۔وہاں پر بڑ کے درخت کے نیچے ہم سب نے حضور سے مصافحہ کیا تھا۔جب حضور جہلم تشریف لے جا رہے تھے تو ہماری جماعت نے حضور کے لئے کھانا تیار کر کے اٹاری کے اسٹیشن پر حضور کی خدمت میں پیش کیا تھا۔اس کھانے میں کھیر بھی تھی۔اس وقت میرے بڑے بھائی جان محمد اور محمد اسمعیل حضور کے ساتھ والے ڈبہ میں بیٹھ گئے اور میانمیر کے اسٹیشن پر برتن اتار لئے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ محترم میاں نور محمد صاحب مکرمی مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کے والد بزرگوار ہیں۔مولوی صاحب موصوف نے کئی سال تک سیرالیون مغربی افریقہ میں خدمت اسلام سرانجام دی اور آج کل آپ سنگا پور میں تبلیغ احمدیت کا فرض ادا کر رہے ہیں۔آپ کو الحکم نمبر ۳۸/ ۳۹ جلد ۸ مورخہ ۱۷۱۱۰ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳ ۴ پر احمدی دوستوں کا اٹاری کے اسٹیشن پر کھیر وغیرہ پیش کرنے کا واقعہ سفر سیا لکوٹ سے متعلق درج ہے سفر جہلم کے دوران اس قسم کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں۔غالباً میاں نورمحمد صاحب محترم کو سہو ہوا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔(مرتب)