لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 31
31 تھے ملنے کیلئے فیروز پور تشریف لے گئے۔۱۴ دسمبر ۱۸۹۳ء کو وہاں سے واپسی پر لاہور اسٹیشن کے پاس ایک مسجد میں وضو فرما رہے تھے کہ مشہور آریہ لیڈر پنڈت لیکھرام نے حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا مگر حضور نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔اس نے اس خیال سے کہ شاید آپ نے سنا نہیں دوسری طرف سے آکر سلام کیا مگر آپ نے پھر بھی کوئی توجہ نہ دی۔جب پنڈت جی ما یوس ہو کر کوٹ گئے تو کسی نے یہ خیال کر کے کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام کا سلام سنا نہیں ہوگا۔حضور سے عرض کیا کہ حضور پنڈت لیکھرام آئے تھے اور سلام کرتے تھے۔حضور نے یہ سنتے ہی بڑی غیرت کے ساتھ فرمایا۔اسے شرم نہیں آتی ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے جلسہ مذاہب عالم لا ہور اب ہم ایک مشہور و معروف نشان کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ” جلسہ مذاہب عالم کی صورت میں لاہور میں ظاہر ہوا اور جس کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ چند معززین نے مل کر یہ تجویز کی کہ جملہ مذاہب عالم کے لیڈروں پر مشتمل ایک عظیم الشان جلسہ لاہور میں منعقد کیا جائے۔جس میں مذہب سے تعلق رکھنے والے مندرجہ ذیل پانچ سوالوں کے جوابات پر تقریر میں ہوں۔ا۔انسان کی جسمانی اخلاقی اور روحانی حالتیں ۲۔انسان کی دنیوی زندگی کے بعد کی حالت ۳۔دنیا میں انسان کی ہستی کی غرض کیا ہے اور وہ غرض کس طرح پوری ہوسکتی ہے؟ ۴۔کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے؟ علم یعنی گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں؟ چنانچہ جب اس جلسہ کے مجوز سوامی شوگن چند ر حضور کی خدمت میں پہنچے تو حضور نے فورا مضمون تیار کرنے پر آمادگی کا اظہار فرمایا بلکہ اس کا پہلا اشتہار قادیان میں ہی چھاپ کر شائع کروایا اور اپنے ایک مرید کو مقرر فرمایا کہ وہ ہر طرح ان کی مدد کرے۔آریوں سناتن دھرمیوں، بر ہموسما جیوں، سکھوں، تھیوسافیکل سوسائٹی والوں، فری تھنکروں عیسائیوں اور مسلمانوں غرضیکہ ہر مذہب وملت کے لیڈروں کو مندرجہ بالا سوالات کے جوابات لکھنے کی دعوت دی گئی۔مسلمانوں میں سے حضور کے علاوہ مولوی محمد