لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 302 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 302

302 میرا نام حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۹۶ پر نمبر ۵ پر درج ہے۔محترم چوہدری مظفر علی صاحب سیکشن آفیسر سیکرٹریٹ نے بیان کیا کہ محترم شیخ صاحب نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔بڑی باقاعدگی کے ساتھ اور با شرح چندہ دیا کرتے تھے۔نرینہ اولاد نہیں تھی۔مگر لڑکیاں کئی ایک تھیں۔جن میں سے دو کی شادی یکے بعد دیگرے محترم ضیاء اللہ صاحب ابن حضرت بابو اکبر علی صاحب سے ہوئی۔آپ کی وفات کا واقعہ بھی بڑا دردانگیز ہے۔آپ کے ایک ملازم نے دو اور لٹیروں کے ساتھ مل کر آپ کے گھر میں ڈاکہ ڈالنا چاہا مگر شیخ صاحب مزاحم ہوئے جس پر اس نے گولی چلا دی۔زخم کاری لگا۔جس سے جانبر نہ ہو سکے۔ایک لڑکی نے بھی مزاحمت کی اسے بھی چوٹیں لگیں مگر بچ گئی۔مقدمہ چلا جس کے نتیجہ میں ملا زم اور ایک ساتھی کو پھانسی کی سزا ملی اور تیسرے کو عمر قید کی۔حضرت میاں کریم بخش صاحب پہلوان رضی اللہ عنہ ولادت: بیعت : اندازاً ۱۹۰۲ء وفات: حضرت میاں کریم بخش صاحب بڑے خوبصورت اور وجیہ انسان تھے۔اندرون لوہاری دروازہ رہا کرتے تھے۔ایک زمانہ میں لاہور میں پہلوانی کا بڑا رواج تھا۔انہوں نے بھی اس فن میں مہارت پیدا کی اور ایک عرصہ تک ریاست اندور میں ملازم رہے۔بڑھاپے میں لاہور آ گئے۔بہت ہی مخلص احمدی تھے۔سفید پوش اور خوشبو کے دلدادہ تھے۔شادی انہوں نے ریاست میں ہی کی تھی۔بیوی نومسلم مگر بڑی سمجھدار تھی۔ان کا ایک لطیفہ مشہور ہے کہ آخر عمر میں اکھاڑے میں ہی فالج کا حملہ ہوا۔بے ہوش ہو گئے۔زبان پر بھی اثر تھا۔آپ کے ساتھی غیر احمدی پہلوانوں اور شاگردوں نے نعش پر قبضہ کرنے کے لئے یہ مشہور کر دیا کہ میاں کریم بخش صاحب نے ہمیں وصیت کی تھی کہ میری نعش کو اپنے انتظام کے ماتحت دفن کرنا۔مگر خدا کی قدرت کہ وہ بے ہوشی جاتی رہی اور جب آپ کو پتہ لگا کہ غیر احمدی پہلوانوں نے آپ کے متعلق یہ بات مشہور کر دی تھی تو ان پر بڑے سخت ناراض ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا کہ اس نے اس ابتلاء سے محفوظ رکھا۔اس واقعہ کے چند دن بعد آپ فوت ہو گئے اور بہشتی مقبرہ قادیان