لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 301
301 جموں کا ہے۔۲۔ایک دفعہ میں نے عرض کی کہ حضور سود کھانا تو نا جائز ہے مگر کیا رشوت دینا بھی ناجائز ہے؟ کیونکہ ہمارے افسر رشوت کے بغیر کام ہی نہیں کرتے۔فرمایا۔اپنا حق لینے کیلئے کتے کے منہ میں ہڈی ڈال دینا جائز ہے۔ولادت : حضرت شیخ محمد حسین صاحب رضی اللہ عنہ بیعت : ۱۹۰۱ ء یا ۱۹۰۲ء وفات : ۱۹۵۱ء محترم شیخ محمد حسین صاحب ولد شیخ غلام رسول صاحب پنشنر سب حج اسلامیہ پارک لاہور نے فرمایا کہ: ا۔میری بیعت ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء کی ہے۔میں نے حضور کو بیعت سے قبل بھی دیکھا اور بیعت کے بعد بھی زیارت کرتا رہا۔حضور کے جنازے پر بھی موجود تھا۔ایک دفعہ جب کہ حضور لاہور میں میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر فروکش تھے، جنوری کا مہینہ تھا سن یاد نہیں۔رات دس بجے کے قریب کا وقت تھا۔اس سال بارش نہیں ہوئی تھی۔حاضرین میں سے کسی نے کہا۔حضور دعا کریں۔بارش ہو۔کیونکہ بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے قحط کے آثار نظر آ رہے ہیں۔حضور نے نہ دعا کی نہ کوئی جواب دیا اور باتیں ہوتی رہیں۔پھر اس نے یا کسی اور صاحب نے بارش کے لئے دعا کو کہا۔مگر پھر بھی حضور نے کوئی توجہ نہ کی۔کچھ دیر کے بعد پھر تیسری دفعہ کسی نے دعا کے لئے کہا۔اس پر حضور نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی۔اس وقت چاند کی چاندنی تھی اور آسمان بالکل صاف تھا۔مگر حضور کا ہاتھ اٹھتے ہی ایک چھوٹی سی بدلی نمودار ہوئی اور بارش کی بوندیں پڑنی شروع ہو گئیں۔ادھر حضور نے دعا ختم کی ادھر بارش تھم گئی۔بارش صرف چند منٹ ہی ہوئی اور آسمان صاف ہو گیا۔یہ واقعہ میری موجودگی میں ہوا۔۲۔ایک دفعہ بٹالہ کی سرائے میں ہم لوگ اور حضرت صاحب رات کو سوئے ہوئے تھے تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ حضور کسی سے باتیں کر رہے ہیں مگر وہاں آدمی کوئی نہیں تھا۔اس وقت میں نے خیال کیا کہ حضور اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہے ہیں۔