لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 281 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 281

281 یہ بات بیان کر کے حضرت بابو صاحب فرمایا کرتے تھے کہ خلیفہ ہدایت اللہ صاحب کے متعلق مجھے افسوس ہے کہ ان کے ورثاء نے ان کو یہاں دفن کر دیا ہے ان کے لئے کوئی صندوق نہیں بنوایا گیا تھا ورنہ میں اپنے خرچ پر ان کی نعش کو قادیان لے جاتا۔ایک تیسرے شخص کا نام بھی حضور نے لیا تھا مگر مجھے ان کا نام یاد نہیں رہا۔☆ حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب کے والد کا نام مرزا عبداللہ بیگ تھا۔آپ کی تاریخ پیدائش ۲۶۔جولائی ۱۸۳۳ ء ( ۱۲ - جمادی الاول ۱۲۵۳ھ ) ہے۔آپ چار سال کی عمر کے تھے کہ آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے۔چنانچہ تعلیم معمولی ہی حاصل کر سکے۔آپ کی قوم مغل بر لاس تھی۔سکھ حکومت کے آخری ایام میں لاہور کے قلعہ میں کچھ عرصہ ملازمت بھی کی۔آپ درزی کا کام کرتے تھے۔آپ پنجابی کے بڑے مشہور شاعر تھے۔مگر آپ کی شاعری کا آغاز ایک شدید صدمہ کی وجہ سے ہوا جو کہ آپ کو اپنے ایک پہلے خوبصورت لڑکے عمر ۵ سال کی وفات پر ہوا۔جس کو آپ نے اس شعر بہت حسین سی یار میرا وانگ پھل گلاب دے رنگ سیو سے شروع کیا:۔آپ نے پنجابی زبان میں کئی ایک سی حرفیاں لکھی ہیں جو کہ پنجاب کے دیہات میں اب بھی زبان زد عام ہیں۔اسی طرح ایک سی حرفی آپ نے حضرت اقدس کے دعوئی کی تائید میں لکھی۔آپ نے خودنوشت یاد داشت والی کاپی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ وفات پر ایک قطعہ کہا جو درج ذیل ہے: مسیح تصنیف دے موتی پرو کے عدد مارے ندامت وچہ ڈبو کے او گئے تبلیغ کر بہہ کے کھلو کے دی یاد خدا بس جاگ سو کے دلاں وچه نیکیاں دا بیج بو کے دعائیں منگیاں مولا تو رو کے سنو تاریخ کہی ہاتف نے جو کے خدا وتے میسج گئے فوت ہو کے آپ کی صوفیانہ شاعری اور نیکی کی وجہ سے مسلمانوں کے علاوہ کئی ہندو اور سکھ بھی آپ کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔آپ کے ایک سکھ شاگر د لوہارا سنگھ جب بھی حاضر ہوتے آپ کے پاؤں پر سجدہ کرنے م دیکھیئے حالات حضرت مولوی غلام حسین صاحب رضی اللہ عنہ