لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 273 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 273

273 مقبرہ کی طرف تشریف لے گئے۔- ۱۹۰۳ء میں جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب قادیان تشریف لائے تو میں بھی ان کی ملاقات کے لئے مہمان خانہ گیا۔اس وقت میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔وہ تسبیح پڑھ رہے تھے۔مجھے ہاتھ سے بیٹھنے کا ارشارہ کیا۔دو چار منٹ کے بعد فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کہ صاحبزادے! کیا کام کرتے ہو میں نے عرض کیا۔پڑھتا ہوں۔فرمایا۔کتنے بھائی ہو؟ والد کیا کام کرتے ہیں؟ وغیرہ۔اس قسم کے چند سوالات کئے پھر میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر فرمایا کہ جاؤ ! خدا تمہیں برکت دے گا۔اولاد : عبدالکریم۔آمنہ۔صادقہ۔مبارکہ۔خورشیدہ۔نفیسہ حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر ولادت : ۱۸۶۹ء بیعت : ۱۹۰۰ ء بذریعہ خط وفات : ۲۶۔فروری ۱۹۵۴ء حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب ہندوستان کے مشہور سیاسی لیڈران مولا نا محمد علی ومولانا شوکت علی صاحبان کے برادر اکبر تھے۔۱۸۶۹ء میں بمقام رام پور ضلع مراد آباد (یو۔پی ) میں پیدا ہوئے۔۱۸۸۸ء میں ریاض الاخبار ( گورکھ پور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط الیگزنڈر رسل ویب سفیر امریکہ فلپائن کے نام شائع ہوا تھا جسے دیکھ کر خاں صاحب کو پہلی مرتبہ حضرت اقدس سے غائبانہ تعارف حاصل ہوا۔۱۹۰۰ ء میں ” ازالہ اوہام “ کا مطالعہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور فوراً بیعت کا خط لکھ دیا۔حضرت اقدس کی زیارت پہلی مرتبہ ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور کی جب که حضور بسلسلہ مقدمات کرمدین وہاں قیام پذیر تھے۔۱۹۲۰ء میں مستقل طور پر قادیان میں ہجرت کر کے آ گئے۔۱۹۲۴ ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جن بارہ خدام کو اپنے ساتھ ویمبلے کا نفرنس میں شرکت اور مسجد احمد یہ لندن کا سنگ بنیا در رکھنے کیلئے یورپ لے گئے تھے ان میں خاں صاحب ذوالفقار علی خاں بھی بحیثیت چیف سیکرٹری شامل تھے۔آپ نے ایک لمبا عرصہ مرکز میں ناظر امور عامہ اور ناظر اعلی کی حیثیت سے قابل قدر کام کیا۔قادیان میں ہجرت کر کے آنے کے ایک عرصہ بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اجازت