لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 272 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 272

272 اکو نٹنٹ تھے۔محلہ کو ٹھید اراں لاہور میں ان کی رہائش تھی۔انہوں نے بھی کئی مرتبہ قادیان میں مجھ سے فرمائش کی کہ میں انہیں حضور کے کھانے کا تبرک لا کر دوں۔چنانچہ میں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پس خوردہ لا کر دیا۔بعد میں جب میں یہاں لاہور میں آ گیا تو کئی دفعہ ان کے گھر میں بھی جانے کا موقعہ ملا۔بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ان کی اولاد میں سے ایک لڑکا مظفر الدین تھا جو بڑا ہونہار تھا۔وہ پشاور میں چند سال جماعت کا امیر بھی رہ چکا ہے۔۔ایک مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے ایک دوا دی اور ساتھ ایک روپیہ بھی اور فرمایا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں روپیہ پیش کر کے اس دوا پر دم کروا کر لاؤ۔حضرت اقدس اندر کمرہ میں بیٹھ کر کچھ لکھ رہے تھے۔میں نے دروازہ کو دستک دی۔حضور نے دروازہ کھولا اور فرمایا۔کیا ہے؟ میں نے عرض کی۔حضور ! مفتی صاحب نے یہ دوا دی ہے اور روپیہ بھی اور فرمایا ہے کہ حضرت صاحب سے دم کروا کے لاؤ۔فرمایا۔مفتی صاحب بھی عجیب آدمی ہیں۔پھر فرمایا۔اچھا لاؤ۔یہ کہہ کر دوا کی شیشی مجھ سے پکڑ لی۔اور کچھ پڑھ کر اس پر پھونک ماری اور مجھے دے کر فر ما یا لے جاؤ۔۴۔ایک مرتبہ جب کہ مسجد مبارک ابھی چھوٹی تھی۔میں ایسے وقت میں نماز پڑھنے لگا جو نماز کا وقت نہیں تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب او پر رہتے تھے۔اتفاق سے لکڑی کی سیڑھیوں سے نیچے اترے۔مجھے دیکھ کر فرمایا۔اومنڈیا! کیا کرتے ہو۔میں نے عرض کی۔نماز پڑھتا ہوں۔فرمایا یہ کوئی نماز کا وقت ہے۔اس کے بعد فر مایا۔بھاگ جاؤ یا دوڑ جاؤ۔چنانچہ میں چلا گیا۔۵۔ایک مرتبہ جب میں حضرت صاحب کے گھر میں نیچے بیٹھ کر پڑھ رہا تھا۔حضور اوپر سے نیچے اترے اور فرمایا۔بجے ایک لوٹا پانی کا لے کر میرے پیچھے چلو۔چنانچہ میں نے لوٹا لے لیا۔زنانہ جلسہ گاہ کے پاس ڈھاب کے کنارے پر ایک بڑ کا درخت تھا اور ساتھ ہی کافی گڑھے بھی تھے۔وہاں مجھ سے لوٹا لے لیا اور ایک گڑھے میں بیٹھ کر رفع حاجت کی۔بعد ازاں مجھے لوٹا دے کر فرمایا کہ تم جاؤ۔میں پل کے پاس کھڑا ہو کر حضور کو دیکھتا رہا کہ حضور کہاں جاتے ہیں۔بہشتی مقبرہ ان ایام میں بالکل نیا بنا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضور بہشتی