لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 254
254 محترم صوفی احمد دین صاحب ڈوری باف (غیر مبائع ) ولادت: بیعت : ۱۸۹۷ء وفات: میاں احمد دین صاحب ڈوری باف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں غالبا ۱۸۹ء سے قبل بیعت کی تھی۔موتی بازار میں دکان کرتے تھے تبلیغ کا بھی شوق تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد غیر مبائعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ملہم ہونے کا بھی دعوی تھا۔مجیب عجیب باتیں کیا کرتے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں وفات پائی۔فانا لله و انا اليه راجعون۔نوٹ : بعض احباب سے زبانی دریافت کرنے پر پتہ چلا تھا کہ میاں احمد دین صاحب ڈوری باف نے ۱۸۹۸ء کے لگ بھگ بیعت کی تھی۔اس لئے ۱۸۹۸ء کے صحابہ میں ان کے حالات درج کئے گئے۔لیکن جب ۱۸۹۷ء کے صحابہ کے حالات کی کتابت ہو چکی تھی تو اتفاقاً حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی کتاب ” احمد صادق کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ میاں احمد دین صاحب ۱۸۹۷ء سے بھی پہلے کے احمدی تھے۔چنانچہ حضرت مفتی صاحب لکھتے ہیں: لاہور میں ایک احمدی بھائی صوفی احمد دین صاحب ڈوری باف ایک غریب ان پڑھ مخلص احمدی تھے۔۱۸۹۷ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چند اور خدام کے ساتھ ایک شہادت کے واسطے ملتان تشریف لے گئے تھے تو راستہ میں لاہور میں ایک دو روز ٹھہرے۔صوفی احمد دین صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ان کے گھر میں جا کر کھانا کھائیں اور محبت کے جوش میں جلدی سے یہ بھی کہہ دیا کہ بڑے اخلاص اور محبت کے ساتھ دعوت کرتا ہوں۔اگر حضور مجھے غریب جان کرنا منظور کریں گے تو مجھے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔حضرت نے تبسم فرمایا اور دعوت قبول کی اور ان کے مکان پر تشریف لے گئے جو ایک غریبانہ تنگ سا مکان تھا اور اس کی دیواروں پر ہر طرف سے پاتھیاں تھی ہوئی تھیں، ۳۵