لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 248
248 وفات پا گئے۔مؤلف ) انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ اس کا جلدی آپریشن کرائیں۔میں نے ان کو کہا کہ میں حضرت صاحب سے پوچھ کر آپریشن کراؤں گا۔چنانچہ میں قادیان چلا گیا۔حضرت اقدس مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔میں نے رونی شکل بنائی۔مایوس تو پہلے ہی تھا۔عرض کیا کہ حضرت! میں تو اب بہت خوفزدہ ہوں۔ڈاکٹر میرا پیٹ چاک کریں گے، پتہ نہیں نتیجہ کیا نکلے گا۔تب حضور نے آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھا۔حضور کی آنکھوں سے محبت کا اظہار ہورہا تھا۔فرمایا کہاں ہے رسولی؟ حضور نے اپنا دست مبارک تین چار دفعہ اس پر پھیرا۔اور فرمایا۔تین چار سال تک کوئی آپریشن نہ کرائیں۔بعض رسولیاں بڑھا نہیں کرتیں۔اگر اس عرصہ کے بعد ضرورت ہوئی تو آپریشن کرا لینا۔چنانچہ اس بات کو اب ۳۶ سال کا عرصہ گذر رہا ہے مگر وہ وہاں کی وہاں ہے۔آگے نہیں بڑھی۔۱۵۔جب حضرت اقدس لیکچر کے ارادہ سے لاہور تشریف لائے تو کسی شخص نے ایک کا رڈلکھا کہ جب آپ باہر نکلیں گے تو میں آپ کا پیٹ چاک کر دوں گا۔حضور نے اس کو معمولی بات سمجھ کر اس کی طرف التفات نہ کی۔مگر یہ بات کہیں باہر نکلتے نکلتے پولیس کے محکمے میں پہنچ گئی۔وہاں سے کوئی افسر دریافت کرنے کے لئے آ گیا کہ کیا کوئی ایسا کارڈ آیا ہے؟ حضور نے فرمایا۔ہاں کا رڈ آیا ہے۔اس کے طلب کرنے پر حضور نے وہ کارڈ اس کے حوالہ کر دیا۔وہ کارڈ لے گیا۔دو دن کے بعد ڈپٹی کمشنر نے کہلا بھیجا کہ حضور اگر پسند فرمائیں تو اس لیکچر کو لیٹ کر دیں تا کہ گورنمنٹ حفظ امن کے لئے انتظام کر لے۔چنانچہ حضور نے اس کو دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دیا۔جس دن حضور کا لیکچر تھا۔میاں معراج الدین صاحب عمر کے مکان میں حضور تشریف فرما تھے۔یہاں سے لیکر منڈ وہ ( عقب دا تا گنج بخش ) تک جو لیکچر کا تھی۔پولیس، فوج، رسالہ کا کافی انتظام تھا۔چھٹڑ کا ؤ کا بڑا انتظام تھا۔کوتوال شہر رحمت اللہ خاں کے نام آرڈر تھا کہ حضرت اقدس کو قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک پہنچانا اور جلسہ گاہ سے لے کر پھر قیام گاہ تک پہنچانا تمہارے ذمہ ہے۔چنانچہ وہ باور دی آ گئے۔اور مجھے سے ہی آ کر پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا۔حضرت اوپر ہیں۔اس نے کہا کہ میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔حضور نے فرمایا۔اوپر آ