لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 247 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 247

247 کہ کیلے کی وجہ سے ریزش زیادہ ہوگئی ہے۔پھر حضور وہاں سے باہر کی طرف سے ہی تشریف لے آئے دکان کے اندر سے نہیں گزرے۔۱۳۔گورداسپور دورانِ مقدمات میں حضرت صاحب نے وہیں رہنا شروع کر دیا تھا۔ایک دن کسی ریڈر نے خواجہ صاحب کے کان میں کہہ دیا کہ کل فیصلہ سنایا جائے گا اور مجسٹریٹ مرزا صاحب کو سزا دینے کا خیال رکھتا ہے۔آپ کوئی بندوبست کریں۔چنانچہ خواجہ صاحب گھبرائے ہوئے حضرت صاحب کے اس مکان میں تشریف لائے جہاں حضرت صاحب تشریف فرما تھے۔میں بھی خواجہ صاحب کے پیچھے ہو لیا۔جب ہم داخل ہوئے تو حضرت صاحب چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ہم پاس بیٹھ گئے۔خواجہ صاحب نے وہ تشویشناک بات حضرت صاحب کو سنائی کہ مجسٹریٹ کا ارادہ قید کرنے کا ہے یا کہا کہ جسمانی سزا دینے کا ہے جو نہی حضرت صاحب کے کان میں یہ آواز پہنچی۔حضور اٹھ بیٹھے اور فرمانے لگے: ' خواجہ صاحب ! کیا وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالے گا ؟ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔خدا نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں تیری حفاظت کروں گا۔ہم مطمئن ہو گئے اور باہر آ گئے۔دوسرے دن ڈپٹی کمشنر کے کمرہ کے باہر کسی اہلکار نے آ کر ہمارے سامنے بیان کیا کہ مجسٹریٹ نے فیصلہ حضرت صاحب کے خلاف کیا تھا۔یعنی اس نے قید کرنے کا فیصلہ لکھا تھا۔مگر جب ڈپٹی کمشنر نے وہ فیصلہ پڑھا تو کہا کہ نہیں نہیں۔یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے۔اگر جرم ثابت ہے تو صرف جرمانہ کی سزا ہوگی۔چنانچہ مجبوراً اس نے پانچ سو روپیہ جرمانہ کر دیا اور فیصلہ پونے چار بجے شام سنایا اور دن بھی ہفتے کا تھا۔اس کا منشا یہ تھا کہ اتوار کا دن تو قید رہیں۔مگر پہلے سے روپے کا انتظام کیا گیا تھا جو فوراً اس کے حوالے کر دیا گیا مگر عدالت عالیہ سے اپیل پر واپس مل گیا۔۱۴۔میرے پیٹ میں بائیں طرف رسولی ہو گئی۔میں ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کے پاس ہی رہا کرتا تھا۔( ڈاکٹر صاحب ۲۶ اور ۲۷۔اپریل ۱۹۳۹ء کی درمیانی رات کو دس بجے