لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 244
244 آپ کو یہ ٹنڈ کہاں سے ملی؟ عرض کیا حضور ! اس کوئیں کے مالی سے مانگ کر لایا ہوں۔فرمایا۔اب اس کو واپس دے آؤ۔چنانچہ میں گیا اور اس کو واپس دے آیا۔یہ آخری بار آنے کی بات ہے۔۱۱۔اسی سفر کا ایک اور واقعہ ہے بلکہ بالکل آخری واقعہ ! عصر کا وقت تھا۔حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ چلو سیر کو چلیں۔میں باہر برآمدے میں کھڑا سن رہا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔چند سطریں رہ گئی ہیں پھر ہمارا کاختم ہو جائے گا۔چنانچہ حضور کوئی آدھ گھنٹے کے بعد فارغ ہو گئے۔اور جب باہر تشریف لائے تو ایک صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔آج ہم نے اپنا کام ختم کر دیا ہے۔پھر فٹن پر سوار ہو کر سیر کو تشریف لے گئے۔ٹھنڈی سٹرک سے ہو کر انارکلی میں تشریف لائے۔مجھے حکم دیا کہ کیسری کی دوکان پرفٹن کھڑی کرنا۔چنانچہ کیسری کی دوکان پر جب ہم پہنچے (کیسری ایک ہندو کا نام تھا۔انار کلی میں اس کی سوڈا واٹر کی مشہور دکان تھی لوہاری دروازہ سے باہر جب انار کلی میں داخل ہوں تو دس بارہ دکانوں کے بعد بائیں طرف وہ دکان تھی۔حضرت اقدس بازار ہی میں فٹن کھڑی کر کے سوڈا منگوایا کرتے تھے دوکان کے اندر نہیں جاتے تھے۔مؤلف ) فٹن کھڑی کر کے حضور نے فرمایا کہ لیمن کی دو بوتلیں تھوڑی سی برف ڈال کر لائیں۔چنانچہ میں نے دو بوتلیں معہ برف حضرت کی خدمت میں پیش کیں۔ایک حضرت نے اور دوسری ام المومنین نے نوش فرمائی۔حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ وہ دہلی والا کچوریاں بنا رہا ہے اس سے دو آنہ کی کچوریاں لائیں۔چنانچہ میں گیا اور کچوریاں لا کر حضرت کی خدمت میں پیش کیں۔پھر وہاں سے لوہاری دروازے سے ہوتے ہوئے ریلوے روڈ پر سیر کرتے ہوئے خواجہ کمال الدین کے مکان پر مغرب کے وقت کے بعد پہنچ گئے۔میں گھر چلا گیا اور صبح کو سیدھا دکان پر چلا گیا۔جب چٹھی رساں ڈاک لایا تو اس نے کہا کہ مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں۔وہاں بہت خلقت جمع ہے۔آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں اس سے بہت ناراض ہوا اور سخت ست کہا۔اس کی بات سے مجھے کوئی یقین نہ آیا۔اتنے میں ایک اور شخص نے آ کر کہا کہ تمہارا مرزا فوت ہو گیا ہے۔تب میں نے اس کو بھی شرمندہ کیا اور کہا کہ تم لوگ ہمیشہ جھوٹ بولنے کے عادی ہو۔مگر ان دونوں