لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 243
243 شریف کی تعلیم کے خلاف ہے۔اس پر حافظ صاحب بہت نادم ہوئے۔حضرت اقدس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ منشی صاحب! آپ نے میرا نیا بیت الدعاد یکھا ہے؟ میں نے عرض کیا۔حضور نہیں دیکھا۔فرمایا وہ سامنے ہے جا کر دیکھ لیں۔میں بیت الدعا کے اندر چلا گیا اور وہاں دو نفل نماز پڑھی۔اتنے میں حافظ صاحب اپنی بات چیت کر کے فارغ ہو گئے۔میں بھی دعا سے فارغ ہو گیا۔حافظ صاحب کو تو حضرت نے رخصت کر دیا مگر میں حضور کی خدمت میں بیٹھ گیا۔حضرت صاحب صحن میں چار پائی پر تشریف فرما تھے۔میں پاؤں دبانے لگ گیا۔حضور میرے ساتھ محو گفتگور ہے۔وہ باتیں رشتہ کے متعلق ہی تھیں۔کوئی آدھ گھنٹہ سے زیادہ میں نے حضرت صاحب سے باتیں کیں۔۹۔ایک مرتبہ حضرت اقدس حضرت ام المومنین کے ہمراہ شالا مار باغ سے سیر کر کے واپس آ رہے تھے۔حضور فٹن پر سوار تھے اور میں سائیکل پر ساتھ ساتھ آ رہا تھا۔حضور نے اپنا سر مبارک فٹن سے باہر نکال کر تقسیم کرتے ہوئے فرمایا کہ سائیکل پر سوار انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کتے پر سوار ہے اس زمانہ میں فٹن بہت اونچی ہوا کرتی تھی۔دو گھوڑے آگے ہوا کرتے تھے۔تانگہ کا رواج نہیں تھا۔۱۰۔جب حضور آخری بار لا ہور تشریف لائے تو حضور کا حکم تھا کہ جب ہم سیر کے لئے جائیں تو کوئی نہ کوئی سائیکل سوار ساتھ رہے۔کیونکہ بعض دفعہ کوئی فوری ضرورت پیش آ جاتی ہے۔چنانچہ میں اکثر یہ خدمت بجالاتا تھا۔مجھے یاد ہے۔ایک مرتبہ حضور حضرت ام المومنین کے ساتھ لارنس گارڈن میں سیر کیلئے تشریف لے گئے۔حضرت ام المومنین نے فرمایا کہ مجھے سخت پیاس لگی ہے۔حضرت اقدس نے مجھے فرمایا کہ کہیں سے دودھ اور برف مل سکتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور ! سب کچھ مل سکتا ہے چنانچہ میں سائیکل پر لارنس گارڈن سے باہر دکان پر گیا۔معلوم ہوا دودھ اور برف تو موجود ہے مگر برتن نہیں۔پاس ہی باغ میں ایک کنواں تھا۔وہاں مالی سے میں نے ایک ٹنڈ لینے کی اجازت لی اس نے مجھے مھل سے کھول کر دی۔میں وہ ساتھ لے گیا اور اس میں دودھ اور برف لایا۔حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت ام المومنین نے بھی پیا اور بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔فرمایا۔