لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 225 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 225

225 کہ میں بابو غلام محمد کے بھائی کی بیوی ہوں تو حضور نے بلا تامل فرمایا کہ سوچ لو۔با بو غلام محمد کو وہ لٹھ پڑا تھا کہ اگر اس کا سرا اس کی کمر پر پڑتا تو ان کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔احمدیت میں یہ چیزیں لازمی ہیں۔تم ان چیزوں کے لئے تیار ہو؟ اس نے کہا۔حضور میں تیار ہوں۔چنانچہ بیعت حضور نے لے لی۔حضور عورتوں کی بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں لیا کرتے تھے بلکہ کسی کپڑے کے ذریعے بیعت لیا کرتے تھے۔۱۳ ۱۹۰۵ء میں جب حضور دہلی تشریف لے گئے تو ایک محلہ چتلی قبر میں جہاں میر ناصر نواب کے رشتہ دار رہتے تھے اور ایک بڑا مکان پہلے ہی سے لے رکھا تھا۔جا کر اترے۔ایک روز اہل محلہ حویلی کے اندر آ گھسے اور کہا کہ مکان کے قریب ہی مسجد ہے اس میں آ کر نماز پڑھا کریں۔آپ نے فرمایا۔میں شر سے بچنے کے لئے اندر ہی پڑھ لیتا ہوں۔انہوں نے بار بار مجبور کیا کہ مسجد کے ہوتے ہوئے آپ اندر کیوں نماز پڑھتے ہیں۔اتنے میں ان لوگوں کی موجودگی میں نماز کی تکبیر ہوگئی۔عصر کی نماز تھی۔میں حضور کے بائیں طرف صف میں کھڑا ہوا۔ایک رکعت ہونے کے بعد پیچھے کچھ گڑ بڑ ہوئی۔تو میں نے سوچا کہ ایسا نہ ہو۔ان میں سے کوئی حضور پر وار کرے۔میں نے ایک لٹھ اٹھا لیا اور کھڑا ہو گیا۔حضور نے جب سلام پھیرا تو میں نماز کی نیت کرنے لگا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کی نماز تو ہوگئی۔اب چاہے پڑھو یا نہ پڑھو۔میں ایک رکعت پڑھ چکا تھا۔فرمایا۔یہ جنگ کا میدان ہے اور تم حفاظت کر رہے تھے۔چنانچہ میں نے پھر بقیہ رکعتیں نہیں پڑھیں۔اسی طرح ایک مرتبہ احمد یہ بلڈنگکس لاہور میں حضور نماز جمعہ ادا فرما رہے تھے۔حضور پہلی صف میں داہنے کنارے پر کھڑے تھے۔اوپر شامیانہ نصب کیا گیا تھا۔دفعہ غیر احمدیوں نے اس کا رسہ کاٹ دیا۔اور شامیانہ حضور کی طرف گرا۔میں حضور کے ساتھ کھڑا تھا۔میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے تھام لیا۔جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔میں نے عرض کیا۔حضور اٹھیں گے تو چھوڑ دوں گا۔چنانچہ حضور اٹھے اور میں نے شامیانے کو پھر باندھا۔یہ حفاظت حضور کی میں نے نماز چھوڑ کر کی اور بعد میں نماز ظہر پڑھی۔یہ فتویٰ دریافت کرنے کے بغیر ہی پڑھی تھی۔۱۴۔مجھے یاد ہے۔ایک دفعہ حضور گورداسپور میں تشریف فرما تھے کہ غیر احمد یوں، سکھوں اور ہندوؤں کا ایک وفد حضور کی خدمت میں ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور عرض کیا کہ ہمارے واسطے دعا کریں۔