لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 224
224 ہوا کہ نظم پڑھو۔میں نے خوب عمدگی سے نظم ادا کی جسے حاضرین نے توجہ سے سنا۔جب حضور بیار کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حاضرین نے شور مچا دیا۔پہلا امر شور پڑنے کا یہ ہوا کہ کسی نے ٹیبل پر چائے لا کر رکھ دی۔میرے قریب میر ناصر نواب صاحب بیٹھے تھے۔فرمانے لگے۔دیکھو کیا بیوقوفی ہے۔کیا کسی نے چائے مانگی تھی۔اب دیکھو اور مصیبت بنتی ہے۔حضور بائیں ہاتھ سے اٹھا ئیں گے اور لوگ شور مچائیں گے ( کیونکہ حضور کے دائیں ہاتھ میں تکلیف تھی اس لئے بائیں ہاتھ سے چیز اٹھاتے تھے اور دایاں ہاتھ ساتھ لگا لیتے تھے ) خیر حضور نے چائے اٹھائی اور پھر رمضان میں خوب شور مچا۔پھر حضور نے نعت پڑھنے کا حکم دیا۔میں کھڑا ہو گیا۔جب تک نعت پڑھتا رہا سب خاموش ہوکر سنتے رہے۔جب نعت ختم کی تو شیخ یعقوب علی صاحب نے کھڑے ہو کر حاضرین کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم لوگ دور دراز سے صرف یہ لیکچر سننے کے لئے آئے ہیں۔اگر تم لوگ سنا نہیں چاہتے تو خاموش تو ہو جاؤ یا چلے جاؤ تاہم اطمینان کے ساتھ سن لیں۔پھر حضرت صاحب نے کھڑے ہو کر بیان کرنا شروع فرمایا۔مگر لوگوں نے اس قدر شور مچایا کہ ایک حرف بھی سنے نہیں دیا۔جب شور بڑھ گیا تو حضور کو دوسرے راستے سے نکال لینا تجویز ہوا۔اور حاضرین کو مشغول رکھنے کے لئے خلیفہ رجب دین صاحب کو کھڑا کر دیا گیا۔جب حضور بند گاڑی میں سوار ہوئے تو اس کی سب کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔درمیان میں ایک طرف کی کھڑکی نہ تھی۔اس میں پائیدان پر کھڑکی کی جگہ میں کھڑا ہوگیا۔تا کہ اندر کوئی اینٹ پتھر نہ جا سکے گاڑی پر اس قدر پتھراؤ کیا گیا کہ ہم نے سمجھا کہ پتھروں کی کوئی مشین چل رہی ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس قدر پتھر لوگ جمع کر سکتے تھے۔انہوں نے جمع کر کے گاڑی پر مارنا شروع کر دیئے ہیں۔حضرت صاحب کے ساتھ جہاں تک مجھے رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔اس قدر پتھر میرے خیال میں اور کہیں نہیں پڑے۔جب گاڑی اشرار کی زد سے نکل گئی تو سامنے ایک لمبی داڑھی والا مولوی داڑھی منہ میں ڈال کر لٹھ گھماتا ہوا آیا اور اس زور سے گاڑی پر لٹھ ماری کہ لکڑی کی جھر منیاں ٹوٹ گئیں۔لٹھے کا درمیانی حصہ میری کمر پر لگا۔حضور نے زور سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ ایک مولوی نے لٹھ مارا ہے اور یہ جھر منیاں کھڑکی کی ٹوٹ گئی ہیں۔فرمایا آپ کو تو نہیں لگی؟ میں نے عرض کیا درمیانی حصہ تھا اگر سرا لگتا تو شاہد میری کمر بھی ٹوٹ جاتی۔حضور بہت متأسف ہوئے۔اور اکثر یاد دلایا کرتے تھے کہ وہ امرتسر کا لٹھ تمہیں یاد ہو گا۔چنانچہ میری بھاوج صاحبہ نے حضور سے بیعت کے لئے کہا اور عرض کیا