لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 210 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 210

210 اور ان کے ساتھ کی ہے ایک دختر ہے کچھ کم پانچ کی وہ نیک اختر کلام اللہ کو پڑھتی ہے فرفر خدا کا فضل اور رحمت سراسر ہوا اک خواب میں مجھ پر یہ اظہر کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر لقب عزت کا پاوے وہ مقرر یہی روز ازل سے ہے مقدر چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق آپ کی شادی حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ سے ہوئی۔حضرت نواب صاحب نوابی خاندان کے درخشندہ گوہر ہونے کے باوجود نہایت ہی متقی اور پارسا بزرگ تھے۔۱۷ فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں سیدہ موصوفہ کے نکاح کا اعلان حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے فرمایا۔نکاح کی اس مبارک تقریب میں شامل ہونے کے لئے لاہور سے حضرت میاں چراغ دین صاحب، ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب، حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی، حضرت بابو غلام محمد صاحب، حضرت مستری محمد موسیٰ صاحب محترم شیخ رحمت اللہ صاحب محترم خواجہ کمال الدین صاحب اور محترم خلیفہ رجب دین صاحب اور بعض دیگر احباب بھی پہنچ گئے۔رخصتا نہ حضرت اقدس کے وصال کے بعد ۱۴۔مارچ ۱۹۰۹ء کو نہایت ہی سادگی سے عمل میں آیا۔یعنی حضرت ام المومنین نے پہلے حضرت نواب صاحب کو جہیز کی فہرست بھیج دی اور پھر خود اپنی بچی کو ساتھ لے جا کر نواب صاحب کے مکان کے دروازہ پر جو حضرت اقدس کے مکان کے ساتھ ہی تھا بھرائی ہوئی آواز میں یہ کہہ کر کہ میں اپنی یتیم بیٹی کو تمہارے سپرد کرتی ہوں وا پس دار مسیح میں تشریف لے گئیں۔اگلے روز یعنی ۱۵ مارچ ۱۹۰۹ء کو حضرت نواب صاحب نے قادیان کے تمام احمدیوں کو اور قصبہ کے بعض عمائدین کو دعوت ولیمہ دی۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا وجود جماعت احمد یہ کیلئے بہت ہی مبارک اور گونا گوں برکات کا موجب ہے۔جماعت کی خواتین آپ سے ملاقات کر کے ایک نیا ایمان لے کر واپس لوٹتی ہیں۔آپ کا کلام خواہ نظم کی صورت میں ہو یا نثر کی نہایت ہی بلند پایہ اور لطیف روحانی اور ادبی ذوق سے پُر ہوتا ہے۔آج کل آپ کی رہائش لاہور میں شملہ پہاڑی کے نزدیک کوٹھی نمبر ۵ پام ویو میں ہے۔حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسی کوٹھی میں