لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 195
195 بھی خدا تعالیٰ نے مجھے ہی بنایا تھا مگر افسوس کہ خلافت ثانیہ کی ابتداء میں وہ غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔آج اتفاق سے خاکسار غیر مبائعین کی مرتبہ کتاب 'یاد رفتگان مطالعہ کر رہا تھا۔اس میں محترم شیخ محمد اسماعیل صاحب کے حالات کے ضمن میں ان کا بھی ذکر آ گیا جو درج ذیل ہے: "آپ ( یعنی محترم شیخ محمد اسمعیل صاحب مرحوم۔ناقل ) کے چھوٹے بھائی الحاج میاں محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں ہماری کپاس لا ہور اور قصور جایا کرتی تھی اور بڑے بھائی صاحب کپاس کے بھگتان کے لئے اکثر لاہور میں رہا کرتے تھے۔ان دنوں آپ اکثر پرانی انارکلی کی ایک مسجد میں نمازیں پڑھنے کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔وہاں پر آپ نے مولوی فضل الہی صاحب کو نماز پڑھتے دیکھا جو کہ احمدی تھے۔آپ خود بھی حد درجہ عبادت گزار تھے مگر آپ نے جب مولوی صاحب کی نمازوں کا رنگ اور سوز واستغراق دیکھا تو حد درجہ متاثر ہوئے اور ان سے راہ رسم پیدا کر لی۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ آپ کو حضرت مجد دوقت کے پیغام کا تفصیلی طور پر علم ہوا اور آپ کو یقین ہو گیا کہ فی زمانہ اعلائے کلمہ حق اور اسلام کی خدمت کیلئے تحریک احمدیت میں شمولیت ضروری ہے۔چنانچہ آپ معہ برادران حضرت مجدد وقت کے دست حق پرست پر بیعت کر کے تحریک احمدیت میں شامل ہو گئے۔۲۶ آپ کے فرزند محترم مولوی عطاء الرحمن صاحب چغتائی مولوی فاضل کا بیان ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے لاہور اور نینٹل کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرگودھا میں ٹھیکیداری کا کام شروع کیا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کو نمایاں کامیابی ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے مکان کے ساتھ مسجد احمدیہ بنوائی کیونکہ آپ نماز باجماعت پڑھنے کے عادی تھے۔سرگودھا اور اس کے اردگرد چکوں میں آپ نے جماعتیں قائم کیں اور سلسلہ کی بہت خدمت کی۔سرگودھا میں قیام کے دوران آپ نے حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری رضی اللہ عنہ کی شادی کا بندوبست کیا اور نکاح خود پڑھا۔شادی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ان کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کے نام ( جو ان دنوں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے ) خط لکھ کر دیا کہ مولوی بقا پوری صاحب کو جماعت احمدیہ کا مبلغ مقرر کرا دیں کیونکہ مولوی صاحب بہت قابل عالم ہیں۔