لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 194 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 194

194 انسپکٹر کی کفالت میں آگئے اور انہی کے خرچ پر قادیان میں تعلیم پائی۔1906ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے وقف زندگی کی تحریک کی تو آپ نے بھی اپنا نام پیش کر دیا۔ہجرت کے بعد لاہور میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں دفن ہوئے بعد ازاں دارالہجرت ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں ان کا تابوت لے جا کر دفن کیا گیا۔اولاد: آمنہ بیگم صاحبہ۔ڈاکٹر احمد صاحب۔صوفی محمد صاحب۔محمود ناظم صاحب۔حامد صاحب۔نسیمہ بیگم۔نعیمہ بیگم۔حمید احمد صاحب حضرت منشی امام الدین صاحب ولادت: بیعت : وفات: حضرت منشی امام الدین صاحب کلرک لاہور کا نام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۱۳۔اصحاب کی اس فہرست میں لکھا ہے جو انجام آتھم میں درج ہے۔حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیروی ولادت : ۱۸۷۵ء بیعت : ۱۸۹۶ء وفات : ۲۵ - اگست ۱۹۵۷ء عمر ۸۲ سال ۳۱۳۔اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم میں آپ کا نام غلطی سے فضل دین“ شائع ہو گیا تھا جو کچھ عرصہ ہوا پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا تھا کہ اس کی تصحیح کر دی گئی ہے۔حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیروی حال لاہور ایک نہایت ہی نیک فطرت اور متدین بزرگ تھے۔قد چھوٹا، بھاری اور مضبوط جسم رکھتے تھے۔ساری عمر تہجد کی نماز نہیں چھوڑی۔خاکسار راقم الحروف نے حضرت مولوی صاحب کو مدتوں دیکھا مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا ذریعہ معاش کیا تھا۔نہایت ہی متوکل بزرگ تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان کا پیشہ تبلیغ ہی ہے۔خاکسار کے خسر حضرت شیخ عبد الرب صاحب نو مسلم مرحوم نے چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ایک لمبا زمانہ لائل پور میں محترم جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب مرحوم غیر مبائع کی ملازمت میں گذارا۔اور اس کا انہیں علم تھا اس لئے ایک مرتبہ فرمایا کہ پنجاب کے مشہور صنعت کار محترم شیخ محمد اسماعیل صاحب لائل پوری کی بیعت کا ذریعہ