لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 138 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 138

138 گو حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب کی وفات بہشتی مقبرہ کے قیام سے پانچ سال پہلے ہوئی تھی۔مگر جب بہشتی مقبرہ کا قیام عمل میں آیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی نعش نکلوا کر بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کروائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی وفات پر جو تعزیتی خط جناب مرزا یعقوب بیگ صاحب کو لکھا اس میں حضور فرماتے ہیں : اس خط کے لکھنے کے وقت جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے نا پدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا۔کہ یک دفعہ الہام ہوا۔مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کے راہ سے داخل ہوں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو“۔کا۔۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم میں آپ کا نام ۴۱ نمبر پر ہے۔حضرت منشی محمد افضل صاحب لاہور ولادت: بیعت : وفات : ۲۱۔مارچ ۱۹۰۵ء حضرت منشی محمد افضل صاحب لاہور کے باشندہ تھے۔بیعت بالکل ابتدائی زمانہ میں کی تھی اور اس کے بعد جلد ہی ممباسہ (افریقہ ) میں بسلسلہ ملازمت ریلوے چلے گئے تھے۔۱۹۰۲ء میں وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد قادیان میں سکونت پذیر ہو گئے۔ستمبر ۱۹۰۲ء میں ایک اخبار القادیان قادیان سے جاری کیا۔لیکن اگلے ہی مہینے یعنی اکتوبر ۱۹۰۲ء میں حضرت اقدس نے اس اخبار کا نام بدل کر البدر“ رکھ دیا۔افسوس که محترم منشی صاحب جو بابو محمد افضل صاحب کے نام سے مشہور تھے۔مارچ ۱۹۰۵ء میں وفات پاگئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔حضرت بابو صاحب اپنے اخبار میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ حضرت اقدس کی ڈائری شائع کیا کرتے تھے۔ان کی وفات کے بعد اخبار ” البدر حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر رضی اللہ عنہ نے خرید لیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو جو ان دنوں تعلیم