لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 133
133 کے ساتھ جو مباہلہ ہوا۔اس میں بھی شامل تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے والد صاحب بھی اس مباہلہ میں شامل تھے گو اس وقت تک انہوں نے بیعت نہیں کی تھی مگر اس میدان میں حضرت صاحب کی خدا کے حضور دعائیں اور التجائیں سن کر ان کا دل پکھل گیا۔اور کچھ عرصہ بعد قادیان جا کر بیعت کر لی۔آپ کو چونکہ شروع ہی سے بحث مباحثہ کا بہت شوق رہا ہے اس لئے آپ تمام مذاہب کے مشہور مذہبی لیڈروں سے تبادلہ خیالات کیا کرتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ پنڈت لیکھر ام پشاوری شاہ عالمی میں رہتا تھا۔اس کے قتل سے پہلے رمضان شریف میں آریہ سماج مندر میں جو وچھو والی میں تھا وہ میرے اور صوفی نبی بخش صاحب اور ایک اور صاحب کے ساتھ جن کا نام یاد نہیں رہا روح و مادہ کے متعلق بحث کیا کرتا تھا۔قرآن مجید پر بار بار حملے کرتا تھا ہم اس کا جواب دیتے تھے۔خدا کی شان ہے کہ رمضان کے آخری ہفتہ میں ہم نے اس سے مباحثات چھوڑ دیئے تھے اور اس سے کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق عنقریب تم عذاب الہی میں مبتلا ہونے والے ہو۔چنانچہ ہم نے ایک بڑے مجمع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پڑھ کر بھی سنائی تھی۔اس گفتگو پر بھی دس دن نہ گزرے تھے کہ وہ قتل ہو گیا۔میرے والد محترم کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ میرا بچہ پنڈت لیکھرام کے ساتھ مباحثات کیا کرتا تھا کوئی ہندو اس پر الزام نہ عاید کر دے۔خدا کا شکر ہے کہ اس کے بعد ہند ومسلم کا سوال پیدا ہو گیا اور سب مسلمانوں نے حضرت صاحب کی پیشگوئی کے سچا ہونے کا اقرار کیا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب قرآن مجید کے عاشق تھے۔آنحضرت له حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت خلیفہ المسیح الاول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ سے از حد محبت رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جب ایک شقی القلب مخالف نے نماز کے بعد مسجد مبارک ربوہ کے محراب میں گردن پر چاقو مارا تو آپ یہ سن کر بے چین ہو گئے۔ہسپتال میں بیمار تھے۔آنکھ کا تازہ آپریشن ہوا تھا۔مگر آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور جب تک ر بوہ پہنچ کر حضرت خلیفہ اسی کی عیادت نہیں کر لی چین نہیں آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ الی الاول کے احسانات سناتے وقت اکثر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے۔اسیح مرحوم کے عقائد غیر مانعین کے ساتھ ملتے تھے۔اس لئے حضرت خلیفہ مسیح الا ول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ لاہوری فریق کے ساتھ مل گئے تھے۔مگر چونکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ