لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 124 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 124

124 حضور نے اس کو اٹھا لیا اور خلیفہ رجب دین صاحب کو کہا کہ ان کو سمجھائیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا آخری عمر میں حضرت صاحب کے چہرہ پر جھریاں پڑ گئی تھیں۔فرمایا۔نہیں۔جب حضور کی وفات ہوئی ہے تو میں جنازہ کے ساتھ قادیان گیا تھا۔جنازہ باغ والے مکان میں رکھا گیا تھا اور عصر کے وقت تمام لوگوں کو چہرہ مبارک کی زیارت کرائی گئی تھی۔اس وقت میں نے حضور کی پیشانی پر بوسہ بھی دیا تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضور سوئے ہوئے ہیں۔چہرہ پر زردی بھی نہیں تھی۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل کو میں نے خوب دیکھا ہے بلکہ گھنٹوں پاس بیٹھ کر ذکر حبیب کے تذکرے سنے ہیں۔آپ کو تبلیغ کا ایک جنون تھا۔میاں معراج الدین اور مولوی غلام حسین صاحبان شیر فروش بیان کرتے ہیں کہ بعض اوقات حضرت مغل صاحب گھر سے رومال لے کر سودا سلف خرید نے یا دودھ دہی لینے کے لئے برتن لے کر نکلتے تھے۔مگر جب دکان پر یا رستہ میں تبلیغ کا موقعہ نکل آتا تو سب کچھ بھول کر اسی میں محو ہو جاتے۔بعض اوقات تو راتوں کو اتنی اتنی دیر تبلیغ میں مصروف رہتے کہ جب واپس جانے کے لئے بازار سے گزرتے تو پولیس والے آوارہ گردی میں پکڑ لیتے اور رات کا بقیہ حصہ حوالات میں رہنا پڑتا۔میاں معراج الدین صاحب شیر فروش بیان کرتے ہیں کہ حضرت مغل صاحب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس سعادت سے ہمیں بھی حصہ ملا ہے۔نیز فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہجوم نے آپ پر حملہ کیا میں آپ کے اوپر لیٹ گیا تا آپ کو کوئی چوٹ وغیرہ نہ لگے۔آپ کی جب وفات ہوئی تو آپ چونکہ آخری عمر میں کوئی کام نہیں کرتے تھے۔اس لئے خطرہ تھا کہ کہیں نظارت بہشتی مقبرہ والے آپ کے ذمہ آمد کا بتایا نکال کر کوئی عذر نہ کر دیں۔مگر اتفاق سے حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ان ایام میں لا ہور تشریف لائے ہوئے تھے۔حضور کو جب مغل صاحب کی وفات کی اطلاع ملی تو حضور آپ کے مکان پر تشریف لائے۔پسماندگان کی دلجوئی کرنے کے بعد ایک سو روپیہ کا نوٹ جیب سے نکال کر دیا اور فرمایا کہ یہ رو پینش کو قادیان لے جانے کے لئے استعمال کیا جائے۔اب بھلا کس کو جرات ہوسکتی تھی کہ ایسے انسان کا بقایا کا سوال کرے جس کی نعش کو قادیان پہنچانے کا انتظام حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ خود فرمارہے ہوں۔چنانچہ نتیجہ یہی ہوا کہ بلا روک ٹوک آپ کی نعش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔اولاد: شریف احمد عبدالرحمن عبد الباسط عبدالرزاق، عزیزہ امتہ اللہ