لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 123
123 66 سے پہلے غالبا سیٹرھیوں سے یا کسی اور جگہ سے گر جانے کی وجہ سے لگی تھی جس کا اثر آخر تک ہاتھ پر رہا۔سلوار پہنے میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا۔شرعی پاجامہ حضور پہنتے تھے۔قمیض فلالین کی گرم ہوتی تھی۔جن دنوں دہلی کے اخبار ”پنچ نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ حضور کو ( نعوذ باللہ ) کوڑھ ہو گیا ہے۔ان دنوں حضور اکثر ململ کا کرتہ لٹھے کا پاجامہ پہنتے تھے۔اس کرتہ کے اوپر اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔اور اکثر دیکھا ہے کہ آپ پنڈلیوں سے پاجامہ بھی بار بار اٹھاتے تھے اور بازؤں سے کر تہ بھی کہنیوں تک اٹھاتے تھے۔یہاں لا ہور میں یہ بات بکثرت مشہور ہوگئی تھی اور بہت سے لوگوں کو ہم دکھانے کے لئے قادیان لے جایا کرتے تھے۔جن میں سے اکثر بیعت کر کے آتے تھے۔سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دہلی کے پہنچ اخبار کے ایڈیٹر نے اپنے مکان کے دروازہ کے اوپر دیوار پر موٹے الفاظ میں لکھا ہوا تھا۔لعنة اللہ علی الکاذبین۔چنانچہ وہ جلد ہی لعنت کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔حضور دوسرے تیسرے روز مہندی بھی لگایا کرتے تھے۔آخری عمر میں وسمہ بھی لگاتے تھے۔خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا حضور نے کبھی بوٹ بھی پہنے ہیں۔میاں صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ براؤن گرگا بی کسی نے لا کر دی تھی مگر دائیں بائیں کے پہننے میں حضور کو تکلیف ہوتی تھی۔اس لئے حضور نے پہننا چھوڑ دی تھی۔مفتی صاحب نے دائیں طرف سیاہی کا نشان لگا دیا تھا مگر میاں محمود احمد صاحب نے بائیں طرف بھی ویسا ہی نشان لگا دیا۔اس پر آپ نے فرمایا۔اس کو لے جاؤ۔میرے اس سوال پر کہ حضور از ار بندکس چیز کا پہنا کرتے تھے فرمایا کہ ٹوٹی ریشم کا ازار بند ہوتا تھا جو اصلی ریشم نہیں ہوتا۔مجھے یاد ہے کہ حضورا ایک دفعہ یہاں تشریف لائے تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا ایک بڑا گچھا بندھا ہوا تھا۔جو میاں امیرالدین پراچہ کے لئے ابتلا کا موجب بن گیا۔ان کا لڑ کا آج کل کلکتہ میں ہے۔دوست محمد اس کا نام ہے مخلص احمدی ہے (۱۹۳۹ء میں ) حضور گالیوں کے خطوط کو بھی محفوظ رکھا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ گالیوں کے خطوط چارمن وزن میں ہو گئے ہیں۔یہ طاعون سے پہلے کا واقعہ ہے۔پھر طاعون شروع ہوگئی۔خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا حضرت صاحب کے ہاتھ کو بھی آپ نے بوسہ بھی دیا ہے۔فرمایا کہ ہم ہمیشہ حضور کے ہاتھ کو بوسہ دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک کشمیری آیا اور حضور کے پاؤں پر گر پڑا۔