لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 100 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 100

100 الحرمین مولاناحکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ بھی جموں میں شاہی طبیب تھے۔ان کی مدد سے پچاس ہزار روپیہ مالیت کی جائیداد تو انہیں واپس مل گئی البتہ باقی جائیداد کے متعلق انہوں نے بیع نامہ لکھ کر دے دیا اس کے بعد ہمارے چچا حضرت میاں معراج الدین صاحب عمرؓ نے میاں محمد سلطان صاحب کی بیوہ گلاب بی بی کے مرنے کے بعد اس کے حصہ کے حصول کیلئے عدالت عالیہ میں دعویٰ دائر کر دیا اور ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے بھر پور کوشش کی مگر افسوس کہ یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی بلکہ الٹا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو رو پید اس جائیداد کے حصول کیلئے قرض لے کر مقدمہ میں خرچ کیا گیا تھا اس کے بدلہ میں بھی ایک حصہ جائیداد کا فروخت کرنا پڑا۔حضرت میاں صاحب موصوف نے ایک لطیفہ بھی سنایا کہ لاہور میں ایک سرائے کی ضرورت محسوس ہوئی۔میاں محمد سلطان صاحب نے اپنے خرچ پر یہ سرائے تعمیر کروا دی جو سلطان کی سرائے کے نام سے مشہور ہے۔اس سرائے کی تکمیل پر تمام بڑے بڑے انگریز افسروں نے ان کے اعزاز میں ایک جلسہ کیا جس میں ان کو ” نواب کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔انہوں نے کھڑے ہو کر حکام بالا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میرا اعزاز کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ خدا نے مجھے ”سلطان“ بنایا ہے اس لئے میں ” نواب نہیں بننا چاہتا۔مجھے اس سے معاف فرمایا جائے۔محترم ڈاکٹر عبد الحمید صاحب چغتائی ابن حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کا بیان ہے کہ جو جائیداد مہا راجہ صاحب سے تصفیہ کے بعد ہمیں حاصل ہوئی تھی۔وہ حسب ذیل تھی۔دہلی دروازہ کے باہر چالیس کنال زمین، بھمہ کی زمین اور باغ جو بارہ مربعے تھے۔چھانگا مانگا میں ۴۸ مربعے زمین تھی۔ریلوے اسٹیشن لاہور کے قریب دیوان خانہ جواب برگنزا ہوٹل کے نام سے مشہور ہے۔ریلوے ٹیکنیکل سکول والی زمین۔اندرون یکی دروازہ دوا حاطے۔لنگے منڈی میں دو مکان۔بھائی دروازہ کے اندر تین مکان اور باہر انگریزوں کے قبرستان کے پاس کچھ زمین۔لوہاری دروازہ کے اندر چند مکان۔چوہٹہ مفتی باقر میں ایک کڑی وغیرہ۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۰ء میں یہ جائیداد ہمارے بزرگوں کو ملی مگر ۱۹۲۰ء میں جب ہمارے بزرگ دادا جان یعنی حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سوائے ایک احاطہ اور ایک مکان کے جو مبارک منزل کے نام سے مشہور ہے باقی تمام جائیداد ہمارے ہاتھوں سے