تاریخ افکار اسلامی — Page 74
تاریخ افکا را سلامی ۷۴ آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر جو خطبہ دیا اس کے بارہ میں فرمایا : آلا لِيُبَلغَ الشَّاهِدُ الغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضُ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ اَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ، یعنی جو یہاں موجود ہیں یہ یہ اور میرا یہ خطبہ سن رہے ہیں وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں (یا میری باتیں نہیں سن سکے ) کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ پہنچانے والے سے زیا دہ وہ شخص بات کو یا درکھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے والا ہو جسے بات پہنچائی گئی ہے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر دونوں مسائل پیش آمدہ کے بارہ میں فیصلہ کرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کو مد نظر رکھتے تھے جن کا انہیں علم ہوتا اور لوگوں سے بھی دریافت کرتے رہتے کہ اس بارہ میں کسی کو حضور کے کسی ارشاد کا علم ہو تو وہ بیان کرے ہے۔مسند احمد جلد اوّل : صفحه ۲۳، ۲۳۴ جلد ۲ صفحه ۶۷۲ مطبوعہ بیروت محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ١٦