تاریخ افکار اسلامی — Page 73
تاریخ افکار را سلامی فتاوی صحابہ ۷۳ فقہائے اربعہ نے صحابہ کے فتاویٰ کو بھی دینی سند اور شرعی ماخذ کے طور پر تسلیم کیا ہے کیونکہ صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے اور مقاصد شریعت کو زیادہ اچھی طرح جانتے تھے لیے بعض دوسرے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اگر تو صحابہ کا فتوی آنحضرت کے کسی ارشاد پر مبنی تھا تو وہ بلا شک حجت شرعیہ اور واجب التسلیم ہے اور اگر اس کی بنیا د صحابی کے ذاتی اجتہاد پر تھی تو اس میں ساری امت کے علما و ان کے ساتھ شریک ہیں۔ایک شبہ کا ازالہ یہ جو بعض روایات میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملفوظات قلمبند کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے یا آپ کے پہلے دو خلفاء کثرت روایت کو پسند نہیں کرتے تھے تو اس ممانعت کی وضاحت یہ ہے کہ ایسا حکم اس احتیاط کی بنا پر تھا کہ قرآن کریم ہر قسم کے اشتباہ سے بچایا جائے اور دوسرے لوگوں کو متنبہ کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی یا غلط بات منسوب کرنا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی روک تھام ضروری ہے۔ہے ورنہ آپ کا تواتر عملی ہمیشہ واجب الاتباع سمجھا جاتا رہا ہے۔خود آپ کا فرمان ہے صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أَصَلَّى - - تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح میں پڑھتا ہوں۔اسی طرح فرمایا عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيّينَ کے کہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کی پیروی کرو اور اسے اپنا ؤ۔قال مالك قول الصحابة سنة تتبع لأنهم الذين شاهدوا و عاينوا وتلقوا علم رسول الله الله ويقول ابو حنيفة ان كان للصحابة رأى واحد اخذت به وان اختلفوا اخترت من آرائهم ولا أخرج عنهما إلى آراء غيرهم و اذا جاء الامر الى ابراهيم و الحسن ) اى التابعي) فهم رجال و نحن رجال (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ۸۳۸۰) كان ابو بكر لا يقبل الحديث إلا من اثنين۔وعلى بن ابي طالب لا يقبل الحديث إلَّا بعد استخلاف قائله تاريخ التشريع الاسلامی صفحه ۱۳۶ و ۱۴۰) بخارى كتاب الاذان باب الاذان للمسافرين ترمذی کتاب العلم باب ما جاء في الأخذ بالسنة