تاریخ افکار اسلامی — Page 64
تاریخ افکا را سلامی ۶۴ اور باقی مرسل روایات آثار صحا بہ یا فقہاء مدینہ کے فتاوی ہیں یا عمل اہل مدینہ کا بیان ہے۔لے یہ ۱۷۹ ھ کے قریب کی بات ہے لیکن ۲۴۰ ھ تک یعنی ایک سو سال سے بھی کم عرصہ میں روایات کی تعد ا دلا کھوں تک پہنچ گئی کیونکہ امام احمد بن مقبل (متوفی ۲۴۱ ھ ) نے اپنی مسند میں تمہیں اور چالیس ہزار کے درمیان احادیث شامل کی ہیں۔جو سات لاکھ پچاس ہزار روایات میں سے منتخب کی گئیں تھیں۔ان کے بعد امام بخاری (متوفی ۲۵۶ھ) نے اپنے زمانہ میں مروج احادیث کے ذخیرہ میں سے صحیح احادیث منتخب کرنے کا اہتمام کیا اور اس کے لئے قواعد اور اصول تجویز کئے۔چنانچہ اس کے لئے اپنی زندگی کے قریباً سولہ سال صرف کر کے جو مجموعہ تیار کیا اس کی کل احادیث سات ہزار تین سوستانوے ہیں اور اگر مکررات کو نکال دیا جائے تو اصل مروی احادیث کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔صحیح مسلم کی احادیث ۷۵۷۵ ہیں۔ابو داؤد کی ۴۸۰۰۔اس میں مکررات شامل ہیں۔یہی حال ترندی ، نسائی اور ابن ماجہ کا ہے ان سب کو صحاح ستہ کہا جاتا ہے یعنی حدیث کی ایسی چھ کتابیں جن میں درج احادیث کوعلماء اہل سنت نے بالعموم صحیح قرار دیا ہے۔" صحت و حجیت حدیث کبار تابعین کے زمانہ میں حدیث کی سند کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔جب کسی معتبر قابل بھروسہ انسان سے سنا جاتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا یا یوں کہا تھا تو اس پر اعتبار کر لیا ل کہا جاتا ہے کہ یہ قلت اس لئے ہے کہ امام مالک اخذ حدیث میں بڑے محتاط تھے۔ایک باران سے کہا گیا کہ ابن تخمینہ کے پاس کچھا حادیث ہیں جو آپ بیان نہیں کرتے تو آپ نے جواب دیا اگر ہر سنی سنائی بات میں بطور حدیث بیان کرنے لگوں تو پھر میرے جیسا احمق کوئی نہیں حالانکہ ابن عیینہ مانے ہوئے محدث تھے۔امام شافعی کہا کرتے ت العلم يدور على ثلاثة مالک ولیث و سفیان بن عیینه مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔مالک بن انس صفحه ۱۹۲۰۱۹۱۰۱۸۷۰۱۰۵۰۱۰۴ ۱۹۳ - الامام الشافعی صفحه ۲۱۳۱۷۳، ۲۳۸ قال احمدان هذا الكتاب قد جمعته وانتقيته من اكثر سبعمائة وخمسين الف حديث الامام احمد بن حنبل صفحه ۲۴۳ - الامام الشافعي صفحه ١٣٦) کے الامام الشافعی صفحه ۲۷۱- ابو حنیفه صفحه ۱۵۹