تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 60 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 60

تاریخ افکا را سلامی 1+ درست ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی کو غلطی لگی ہو۔در حقیقت حضور نے ایسا نہ فرمایا ہو یا حضور نے جو کچھ فرما یا ہو راوی اسے سمجھ نہ سکا ہو ، اس بنا پر حد بیث متواتر اور مشہور کی صورت میں تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کی کسی آیت کے وہی معنے مانے چاہئیں جو ان احادیث میں بیان ہوئے ہیں، لیکن خبر واحد یعنی ایک دو راویوں کی روایت سے الفاظ قرآن کے ظاہری مفہوم کو ترک کرنا آئین عقلمندی کے خلاف ہے۔فَأَخْبَارُ الأَحَادِ لا يُمكن أن تكونَ فِي مَقَامِ القرآن الكريمِ الَّذِي لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ فَهُوَ حَاكِمْ عَلَى أَخْبَارِ الْأَحَادِ بِالصَّحْةِ وَالرَّةِ - قرآن کریم کے سلسلہ میں ایک اختلاف تفسیر بالرائے کے جائز یا نا جائز ہونے کے بارہ میں ہے۔یا تفسیر بالرائے سے مرادا گر یہ ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ احادیث۔لغت اور محاورہ عرب کو نظر انداز کر کے یونہی اپنے خیالی اندازوں کی بنیاد پر کسی آیت کی تفسیر کی جائے تو امت مسلمہ کے تمام سنجیدہ علماء ایسی تفسیر کو غلط اور گمراہی سمجھتے ہیں۔ے لیکن تفسیر بالرائے کے ممنوع ہونے کا اگر یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کسی روایت کے بغیر قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر نا جائز اور غلط ہے تو یہ موقف بھی درست نہیں۔اگر ہر آیت کی تفسیر کے لیے حضور کا ارشاد ضروری ہوتا تو صحابہ حضور کے تمام ارشادات کو محفوظ کرنے کا اسی طرح خاص اہتمام کرتے جس طرح قرآن کی حفاظت کا خاص اہتمام انہوں نے کیا تھا۔بہر حال تفسیر بالرائے کا یہ مفہوم کہ قرآن کی کسی آیت کی اس طرح تغییر کی جائے کہ وہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور ثابت شدہ احادیث کے خلاف نہ ہو اور لغت و محاورہ عرب اس کی تائید کرتے ہوں یا وہ تفسیر اس اصول پر مبنی ہو کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور مظاہر قدرت یعنی سائنس اس کا فعل اور خدا کا قول اس کے فعل کے خلاف نہیں ہو سکتا تو ایسی پُر از معارف تفسیر نہ ل الشيعة يرون ان الائمة هم مفاتيح علم الكتاب الكامل ولا يمكن ان يدخل الناس ابوابه الا بهذه المفاتيح (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه (۶۵) روى ابو عبيد القاسم بن سلام ان ابابكر الصديق سئل عن قوله تعالى " وَ فَاكِهَةٍ وآبا (عبس (۳۱) فقال ای ارض تقلنی و اى سماء تظلني اذا قلت في القرآن مالم اعلم (الدر المنثور تفسير سورة عبس: ٣١)