تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 46 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 46

تاریخ افکا را سلامی اس زمانہ کے سر بر آوردہ علماء سے تعلقات استوار کرنے کو غنیمت جانتے تھے اور اس بات کے لئے کوشاں رہتے کہ ان کی خوشنودی حاصل رہے۔چنانچہ امام مالک کی روایت ہے کہ ایک دفعہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے آپ کو بلا بھیجوایا آپ نے سمجھا ضرور کوئی شکایت ہوئی ہے اور خیر نہیں۔آپ جب منصور کے ں پہنچے تو دیکھا کہ منصور کے ہاتھ میں تلوار ہے اور وہ غضب سے بھرا بیٹھا ہے وہاں مدینہ کے دو اور سر بر آوردہ عالم بھی بیٹھے ہیں۔ایک ابن سمعان اور دوسرے ابن ابی ذویب۔بہر حال سلام دعا کے بعد منصور نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے شکایت کی۔"يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَاءِ كُنتُمْ أَحَقَّ النَّاسِ بِالْكَفِ مِنْ الْسِنَتِكُمْ اے فقہاء مدینہ مجھے امید تھی کہ تم سمجھ سے کام لو گے اور معاملات حکومت کے بارہ میں خاموشی اختیار کرو گے لیکن مجھے برابر شکایتیں پہنچ رہی ہیں کہ تم ہمارے خلاف نکتہ چینی کرتے ہو۔امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے جواباً عرض کیا امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اے مومنو! جب کوئی فاسق تم تک کوئی بات پہنچائے تو اسے بھی ماننے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو۔ابو جعفر منصور نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ آى الرِّجَالِ أَنَا آمِنْ أَئِمَّةِ العَدْلِ أَمْ مِنْ أَئِمَّةِ الجَوْرِ۔میں کیسا امام ہوں ، عادل ہوں یا ظالم۔امام مالک کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ اور رسول کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے اس سوال کے جواب سے معذور سمجھا جائے۔منصور نے جواب دیا اچھا آپ کو معاف کرتا ہوں۔پھرا بن سمعان سے یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا آپ بہت اچھے ہیں۔بیت اللہ کا حج کرتے ہیں۔دشمنان اسلام سے جہاد کرتے ہیں۔آپ ملک میں امن وامان قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔آپ کی وجہ سے کمزور زبر دست کی زیادتیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔پھر منصور نے ابن ابی ذویب سے یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا خدا کی قسم تم بدترین انسان ہو۔اللہ تعالیٰ کے مال پر قبضہ کر کے بیٹھے ہو، لوگوں کو اُن کے حقوق نہیں دیتے تم کمزوروں کو تباہ کر رہے ہو اور جو کچھ طاقت رکھتے ہیں ان پر بوجھ بنے ہوئے ہو۔ان سے ان کے اموال چھین لیتے ہو۔منصور یہ سن کر غصہ سے چیخ پڑا اور کہا تیر استیا ناس ہو۔جانتے ہو کس سے بات کر رہے ہو۔